Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

اجارہ داری کیوں؟

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کہ اس نے دوسرے ہم عصروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو فائق تر ثابت کر دیا ہے۔ مگر اجتماعی ملکیت کا نظام آزاد مقابلہ سے ڈرتا ہے۔ وہ جب کاروبار کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس میں عام پبلک کے لیے حصہ لینا حرام قرار دے دیتا ہے اور اس طرح لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ اپنی ضروریات کے لیے وہ صرف اسی کے یہاں آئیں، دوسری جگہ کہیں نہ جائیں۔ اگر ایک عام تاجر کوئی کاروبار شروع کرے تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ اس کا کاروبار کے بہت سے تاجروں میں ایک تاجر کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ مگر حکومت ایک ایسا تاجر ہے جو دوسرے تمام تاجروں کی دکانوں کو مقفل کر کے اپنی دکان کھولتا ہے۔ اگر یہ واقعہ ہے کہ سرکاری کاروبار نجی کاروبار کے مقابلہ میں عوام کے لیے زیادہ بہتر اور مفید ہے تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ وہ فوج اور پولیس کے جلو میں آئے۔ اس کو بے خوف ہو کر کھلے مقابلہ میں آنا چاہئے۔ پھر جو طریقہ انسانوں کے لئے زیادہ اچھا ہوگا ، لوگ خود ہی اس کی طرف ٹوٹ پڑیں گے اور اس کا مخالف اس کے مقابلہ میں اپنے آپ فنا ہو جائے گا۔ معاشی دنیا میں اس اجارہ داری کے معنی وہی ہیں جو سیاسی دنیا میں ڈکٹیٹر شپ کے ہوتے ہیں۔ ہٹلر نے جرمنی میں برسراقتدار آنے کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا تا کہ جب الیکشن ہو تو کوئی پارٹی اس کے مقابلہ میں نہ آسکے۔ سارے ملک میں صرف ایک نازی پارٹی ہو جس کے نمائندے الیکشن کے موقع پر نامزد کر دیے جائیں اور لوگ مجبور ہوں کہ اپنے ووٹ اسی ایک پارٹی کے بیلٹ باکس میں ڈالیں ۔ آج کوئی بھی ہٹلر کی اس اجارہ دارانہ سیاست کو پسند نہیں کرتا، مگر معاشیات میں سوشلٹ اجارہ داری کو ترقی پسند اور جاندار نقطہ نظر کہا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ ایک جگہ ملک کو سیاسی قید خانہ بنا دیا جاتا ہے اور دوسری جگہ معاشی قید خانہ۔ دنیا پہلے نظریے کو برا سمجھتی ہے کیوں کہ اس کی غلطی سب پر واضح ہو چکی ہے۔ مگر دوسرے نظریے کا خیر مقدم کرتی ہے کیوں کہ اس کی برائیوں پر ابھی دیوار چین کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اجتماعی ملکیت کے نظام میں اجارہ داری بالقصد لائی نہیں جاتی بلکہ یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب حکومت ضروریاتِ زندگی کو پیدا کرنے والے تمام ذرائع کو اپنے ہاتھ میں لے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page