Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

لے تو دوسرے افراد کے لیے یہ موقع کہاں رہتا ہے کہ وہ الگ سے کوئی کام کر سکیں۔ گویا حکومت مقابلہ کرنے سے لوگوں کو روکتی نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ لوگوں کو خود ہی رک جانا پڑتا ہے۔ یہ اگر کوئی تو جیہہ ہے تو ایسی تو جیہہ ہر ظلم کے خلاف کی جاسکتی ہے۔ بدترین ڈکٹیٹر شپ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس نے لوگوں کو خیالات کی آزادی سے روکا نہیں تھا بلکہ ان ذرائع پر قبضہ کر لیا تھا جہاں سے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس طرح سیاسی پابندی بالقصد ایک ایک شہری پر عائد نہیں کی گئی بلکہ وہ حکومت کے ایک عمل کا لازمی نتیجہ تھی۔ مگر اس سے قطع نظر موجودہ سوشلسٹ ممالک میں سے کہیں بھی اجتماعی ملکیت کا نظام اس آخری شکل میں نافذ نہیں کیا گیا ہے جہاں افراد کے لیے خود کچھ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ابھی تک یہ ممانعت بالقصد نوعیت ہی رکھتی ہے۔ سوشلسٹ ملکوں میں روس وہ ملک ہے جہاں اس نظام کو سب سے زیادہ اپنایا گیا ہے۔ مگر وہاں ابھی تک رہائشی مکان اور پس انداز کی ہوئی رقم اور گھر کے ضروری سامانوں پر انفرادی ملکیت کا حق تسلیم کیا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اگر چاہے تو اپنے گھر میں ایک مشین تیار کر کے سامان بنانا شروع کر دے۔ روسی دستور کی دفعہ ے کی رو سے اجتماعی فارموں سے منسلک ہر گھرانے کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اس آمدنی کے علاوہ جو اسے اجتماعی فارم کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے ملتی ہے، اپنے گھر کے پاس تھوڑی سی زمین نجی استعمال کے لیے ، اور کھیتی باڑی کے چھوٹے چھوٹے اوزار رکھے ۔ اسی طرح دستور کی دفعہ 9 کی رو سے کسانوں اور دستکاروں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ الگ الگ اپنا کام چھوٹے چھوٹے پیمانے پر کر سکتے ہیں۔ البتہ ان کاموں میں صرف انفرادی محنت کا استعمال ہونا چاہئے۔ انھیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دوسروں کی محنت سے فائدہ اٹھائیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ روس میں ازروئے دستور اس بات کی ممانعت ہے کہ صنعتی کاریگر اپنے فاضل اوقات میں باہم مل کر کوئی کام کر سکیں یا کوئی شخص دوسروں کو اپنے یہاں مزدور رکھ کر تجارتی پیمانے پر کاروبار کرے، اس کا حق صرف حکومت کو حاصل ہے، کسی فرد کو نہیں۔ فریب پرحماقت کا اضافہ: برٹرینڈ رسل نے کہا ہے کہ تاریخی ارتقاء کے متعلق مارکس کے خیالات ممکن ہے غلط ہوں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page