فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر بھی جو سیاسی اور اقتصادی نظام اس نے پیدا کرنے کی کوشش کی ، وہ ممکن ہے اسی قدر پسندیدہ ہو جس قدر اس کے پیرو اسے سمجھتے ہیں۔‘‘ یہ موجودہ زمانہ کے سوشلسٹ مفکرین کا عام رجحان ہے ، وہ مارکس کے نظریات پر یقین نہیں رکھتے۔ کیوں کہ اس کی سائنٹفک بنیادیں بہت کمزور ہیں۔ مگر ان نظریات کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس نے سماجی فلاح کا جو اصول پیش کیا تھا اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ کیوں کہ موجودہ پریشان کن حالات میں اس کے سوا انھیں زندگی کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ موجودہ سماج میں افراد کی بڑھتی ہوئی خود غرضی اور انانیت اور باہم ایک دوسرے کی لوٹ کھسوٹ نے ان کو افراد کی طرف سے مایوس کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو وعظ و تبلیغ کے ذریعہ انصاف پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ معاش کے مواقع کو عوام کے ہاتھ میں دینے کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ لوٹ کھسوٹ کو مستقل طور پر جاری رکھا جائے۔ اس لیے ان کا خیال یہ ہو گیا ہے کہ ضروریات زندگی کی تیاری اور تقسیم کا کام افراد سے چھین کر حکومت کے سپر د کر دیا جائے جو سب کے درمیان منصفانہ طور پر اس کو تقسیم کرے۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ حکومت بھی تو عوام ہی میں سے چند افراد کا نام ہے۔ یہ لوگ مریخ سے درآمد نہیں کیے گئے ہیں بلکہ اسی زمین کے باشندے ہیں۔ وہ ذریعہ جس سے حکومت کے افراد منتخب ہو کر اقتدار کی کرسیوں تک پہنچتے ہیں وہ الیکشن ہے۔ اور الیکشن کا کام افراد بنانا نہیں ہے بلکہ اس کا کام صرف یہ ہے کہ معاشرہ جس حالت میں ہو ، اس کے مطابق ، اس کے مکمل نمائندہ افراد کو نکال کر رکھ کر دے۔ کسی معاشرے کے نمائندے اس کی اخلاقی حالت کے بھی نمائندہ ہوتے ہیں ، نہ کہ منتخب ہونے کے بعد اس سے مختلف کوئی چیز بن جاتے ہیں۔ پھر سماج کے جن افراد سے آپ کو اس وقت خطرہ محسوس ہوتا ہے جب وہ بے اختیار ہوتے ہیں۔ انھیں افراد سے اس وقت خطرہ کیوں نہیں محسوس ہوتا جب وہ الیکشن میں منتخب ہو کر سیاسی اختیارات بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ کیا اس تبدیلی کے معنی اس کے سوا کچھ اور ہیں کہ سماج کو غیر قانونی طور پر ڈاکا زنی کا اختیار حاصل ہے۔ عام افراد کے مقابلے میں حکومتوں سے آپ کس بنیاد پر خیر کی توقع رکھتے ہیں۔ کیا حکومت کا کردار عوام کے کردار سے مختلف ہوتا ہے؟ کسی ملک میں جو حیثیت عام افراد کی ہوتی ہے وہی حیثیت بین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader