Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

الاقوامی دنیا میں مختلف حکومتوں کی ہے۔ پھر کیا یہ حکومتیں عالمی بساط پر اس سے مختلف کسی کردار کا مظاہر ہ کر رہی ہیں جو متفرق افراد اپنے ملکی دائرہ کے اندر کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں مملکتی نظام کی تبدیلی کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ سرمایہ داروں کو ختم کر کے ان کی جگہ پر عہدے دار کھڑے کر دیئے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مارکس کے فلسفہ کو مانے بغیر محض ’’اجتماعی ملکیت‘‘ کے اصول کی حد تک ایک معاشی حل کے طور پر اس کو اپنانا چاہتے ہیں وہ مارکس کے فریب پر حماقت کا اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ مارکس کے دعوے کو اس کے دلائل کے بغیر تسلیم کرنا ہے۔ ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو مجرم قرار دے اور جب اس کو شبہ نہ نظر آئے کہ عدالت میں وہ اس کو مجرم ثابت نہ کر سکے گا تو قانون کا انکار کر کے خود ہی اسے قتل کر ڈالے۔ مارکس کا سیاسی اور اقتصادی نظام، ایک غیر معمولی اور انتہائی عمل ہے جس کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے اس نے اپنے فلسفہ تاریخ سے کام لیا تھا۔ اب مارکس کے لیے تو یہ ایک وجہ جواز ہے کہ اس نے غلط طور پر سہی، بہر حال کچھ ایسے نظریات قائم کیے جو اس کو تاریخ کے خلاف ایک نئے اقدام کے لئے حق بجانب ثابت کر سکتے ہوں۔ مگر جو لوگ اس کے مقدمات کو نظر انداز کر کے صرف اس کے نتائج کو لینا چاہتے ہیں وہ آخر کس دلیل کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں۔ مارکس کے فلسفہ کو چھوڑ دینے کے بعد اس کے معاشی پروگرام کو اختیار کرنے کا آپ کو کیا حق ہے؟ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ ’’قانون، اخلاق اور مذہب سب کے سب بورژوا کے فریب ہیں جن کے ذریعہ وہ مفادات کا تحفظ کرتا ہے‘‘۔ مگر اسی نظریہ کی مدد سے تو اس نے ذاتی ملکیت کی تنسیخ کے خلاف تمام اعتراضات کا جواب دیا تھا۔ پھر اس کو رد کرنے کے بعد آپ کو کیا حق رہتا ہے کہ لوگوں کو ان کی ملکیت سے محروم کریں جس کے وہ تمام قانونی ، اخلاقی اور مذہبی تصورات کے مطابق جائز مالک ہیں۔ اس موقع پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ’’ہم لوگوں کی ملکیتوں کو معاوضہ دے کر حاصل کریں گے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ ملکیت سے دست برداری آدمی کی خود اپنی مرضی سے ہوگی یا قانون اس کو طے کرے گا اور جو معاوضہ دیا جائے گا اس کو حکومت مقرر کرے گی یا وہ شخص جس کو معاوضہ لینا ہے۔ اگر انتقال ملکیت اور معاوضہ دونوں چیزیں حکومت طے کرے گی اور اصل مالکوں کی مرضی کا اس میں کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page