Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

دخل نہ ہوگا تو یہ کھلا ہوا جبر ہے جس کے لیے مارکسی نظریہ کو ترک کرنے کے بعد آپ کے پاس کوئی وجہ جواز باقی نہیں رہتی۔ آپ مارکس کے ”قدر زائد“ کے نظریہ کو نہیں مانتے کیوں کہ اقتصادیات کی رو سے اس کا غلط ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ مگر یہی وہ نظریہ ہے جس سے مارکس سرمایہ داروں کے خلاف اپنے انتہائی اقدام کو حق بجانب ثابت کرتا ہے۔ پھر اس کو رد کرنے کے بعد آپ کو کیا حق ہے کہ کچھ لوگوں کو ”سرمایہ دار“ قرار دے کر ان کی کمائی غصب کر لیں جب کہ اس فعل کے حق میں معاشی استدلال کو آپ خود ہی غلط قرار دے چکے ہیں۔ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ قدیم سماج کے بطن سے جدید سماج طاقت ہی کی مدد سے حاصل ہوتا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ ہم تشدد کے بغیر پر امن ذرائع سے کام لے کر سماج کے اندر معاشی انقلاب لائیں گے، مگر پر امن انقلاب کا اب تک کا تجربہ ہے کہ اس میں مراعات یافتہ طبقہ نئے عنوان سے عوام پر غالب آ جاتا ہے۔ پھر آپ کا پر امن انقلاب آخرکس بنا پر اس سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیوں نہ سمجھیں کہ آپ کا پر امن ذرائع سے سوشلزم لانے کا نعرہ محض ایک فریب ہے جس کے ذریعہ آپ اپنے اختیارات کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد ریاست خود بخود فنا ہو جائے گی۔ مگر یہی تو وہ نظریہ ہے جس سے مارکس اس اندیشے کا جواب دیتا ہے کہ سوشلسٹ نظام میں ریاست کے ہاتھ میں عظیم اختیارات آجانے کے بعد ظلم بڑھے گا نہیں بلکہ کم ہوتے ہوتے بالآخر ختم ہو جائے گا۔ پھر اس نظریہ کو رد کر دینے کے بعد آپ کو کیا حق ہے کہ ریاست کے ہاتھ میں وہ عظیم اختیارات دے دیں جو کسی شہنشاہ کو بھی کسی زمانے میں حاصل نہیں ہوئے تھے۔ جب کہ آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ اختیارات لازماً صحیح مقاصد کے لیے استعمال ہوں گے اور کبھی غلط سمت کا رخ نہیں کریں گے۔ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ انسان کے خیالات اور اس کے اخلاق و عادات اس کی معاشی زندگی کا عکس ہیں۔ حالانکہ یہی وہ نظریہ ہے جس کے ذریعہ مارکس یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی تمام اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی خرابیاں صرف طریق پیداوار کی تبدیلی سے درست ہو جائیں گی۔ پھر اس کو رد کرنے کے بعد آپ کے پاس وہ کون سی دلیل ہے جس سے آپ یہ ثابت کر سکیں کہ ملکیتی نظام کو ختم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page