فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں تقسیم اختیارات کا یہ فرق مٹ جاتا ہے۔ کیا وہاں سماج کے تمام افراد نہتے کر دیئے جاتے ہیں اور کسی کے لیے یہ موقع باقی نہیں رہتا کہ وہ اگر چاہے تو دوسرے کا استحصال کر سکے۔ صورت واقعہ نہ صرف اس کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کے نظام میں اختیارات کی مرکزیت کا عمل اپنے کمال کے درجہ پر پہنچ جاتا ہے۔ سماج کے با اختیار ادارہ کو عام حالات میں جتنے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اجتماعی ملکیت کے نظام میں اس سے کہیں زیادہ اختیارات اسے حاصل ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سوشلسٹ نظام کے ’’متولی‘‘ اگر بگڑ جائیں تو سوشلسٹ سماج کا حال اس سے بھی ابتر ہو جائے گا جو جمہوری نظام کے متولیوں کے بگڑ جانے سے جمہوری سماج کا ہوتا ہے۔ اس اندیشے کو خود سوشلسٹ حضرات بھی محسوس کرتے ہیں۔ اشوک مہتا نے کہا ہے: ’’سوشلسٹ اقتصادیات کار جحان مرکزیت کی طرف رہتا ہے۔ اس لیے اس کی سیاست کا جمہوری اور غیر مرکوز ہونا اور سنسکرتی کا آزاد پرست ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘ مگر کسی کے ہاتھ میں اختیارات سونپ دینے کے بعد یہ امید رکھنا کہ وہ اس کو ہمیشہ صحیح مقصد کے لیے استعمال کرے گا محض خوش خیالی ہے۔ اگر جمہوری نظام میں ایسا ممکن نہیں ہے تو اشتراکی نظام میں کس طرح ایسا ہو سکتا ہے جب کہ وہاں اختیارات کی مرکزیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ مارکس نے اس پیچیدگی کو اس طرح حل کیا کہ اس نے دعویٰ کیا کہ معاشی حالات کے بدلنے سے انسان بھی بدل جاتے ہیں۔ شعور کا بننا یا بگڑنا اور انسان کا اچھا یا برا ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے معاشی ماحول میں سانس لے رہا ہے۔ یہ نظریہ اگرچہ مندرجہ بالا سوال کا ایک قطعی جواب دیتا ہے مگر یہ اتنا لغو نظریہ ہے کہ اس کو اپنی صحیح شکل میں کوئی ایسا آدمی ہی قبول کر سکتا ہے جو جذبات میں اندھا ہو چکا ہو۔ چنانچہ سوشلسٹ مفکرین یا تو اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں یا اس کی توجیہہ کرتے ہیں۔ مگر یہ توجیہہ ایسی ہے کہ چاہے بطور ایک نظریہ کے اس میں صداقت ہو مگر اس سوال کے جواب کی حیثیت سے اس کی معنویت ختم ہو جاتی ہے جس کے لیے مارکس نے اس کو وضع کیا تھا۔ جمہوری سوشلزم، صفحہ ۲۲۲۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader