فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکسی حل کا تجربہ مارکس نے زندگی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جو معاشی تجویز پیش کی ہے اور ہم نے اس پر اصولی حیثیت سے گفتگو کی ہے اور عقلی بحث کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ کوئی حل نہیں بلکہ محض ایک لغو کارروائی ہے جس سے ہرگز کسی بہتر نتیجہ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اب ہم یہ بتائیں گے کہ اس حل کا جب تجربہ کیا گیا تو عملاً اس سے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ اشتراکیت کا اقبال جرم: پچھلے صفحات میں ہم نے اشتراکیت پر زیادہ تر نظری حیثیت سے گفتگو کی ہے جس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اشتراکیت ایک نظریہ کی حیثیت سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس نظریہ کی انتہائی خرابیاں اپنے پہلے ہی تجربہ میں پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہو چکی ہیں جو اس کے اولین لیڈروں اور مفکروں کے ذریعہ روس میں ہوا تھا۔ روس اس نظریہ کی اولین تجربہ گاہ نہیں بلکہ در حقیقت وہ اشتراکیت کا مزار ہے جہاں وہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکی ہے۔ اب اگر وہ زمین کے بعض حصوں میں باقی ہے تو ایک نظریہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس حیثیت سے باقی ہے جیسے کہ جمہوریت باقی ہے۔ جمہوری تحریک جب ابتداء اٹھارویں صدی عیسوی میں فرانس سے اٹھی تو وہ ایک نظریہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ زندگی کا صحیح ترین نظریہ ہے اور اسی کے ذریعہ انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مگر اب کہیں بھی جمہوریت اس حیثیت سے زندہ نہیں ہے۔ اب وہ صرف ایک سیاسی ہتھیار ہے جس کے ذریعہ کچھ چالاک قسم کے لیڈر عوام الناس پر اپنی خدائی کا تخت بچھاتے ہیں۔ اسی طرح اشتراکیت اب کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حربہ ہے۔ جن کے ذریعہ کچھ انسان نما دیوزمین کے ایک تہائی حصہ میں تقریباً نوے کروڑ انسانوں کا گلا دبائے ہوئے ہیں۔ اشتراکی نظام کے بارے میں یہ تلخ حقیقت اب " سرمایہ داروں کا پروپیگنڈہ " نہیں رہی بلکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader