فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں کانگریس کے بعد خود روس کے لیڈروں نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ اس نظام میں جب ایک بار کوئی شخص بر سر اقتدار آ جائے تو پھر موت کا فرشتہ ہی انسانیت کو اس کے عذاب سے نجات دلا سکتا ہے۔ چنانچہ اسٹالن کو نہ تو معزول کیا جا سکا اور نہ اس کی زندگی میں کسی کو اس کے خلاف بولنے کی جرات ہوئی ۔ اس کے مظالم کو’’ تاریخ کے عظیم انصاف‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ اس کے بارے میں کہا گیا‘‘ اسٹالن کلاسیکل کمیونزم کا حقیقی پیرو ہے‘‘ مگر اس کے مرنے کے بعد خود اشتراکی پریس نے یہ تسلیم کیا کہ اسٹالن تاریخ کا سب سے بڑا ظالم انسان تھا۔ اپنی حکومت کے آخری دور میں اس کی خود پسندی نے قابل نفرت شکل اختیار کر لی۔ اس نے خود کو پارٹی اور عوام سے بالاتر کر لیا۔ مرکزی کمیٹی کی رائے پر غور کرنا ترک کر دیا۔ اس نے مطلق العنان طرز حکومت پر عمل کیا۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری اول مسٹر خروشیف (N. Khrushchev) نے اسٹالن کے مرنے کے بعد پارٹی کی بیسویں کانگریس میں فروری ۱۹۵۶ء ایک تقریر کی جس میں اسٹالن کے جرائم گنائے ۔ یہ ایک طویل تقریر تھی جس کے بعض فقرے یہاں درج کیے جاتے ہیں: ’’ایک شخص سب کچھ جانتا ہے۔ سب کچھ دیکھتا ہے، ہر فرد سے واقف ہے، ہر کام کر سکتا ہے، اس سے کبھی غلطی نہیں ہوسکتی۔ کسی شخص میں اس قسم کی غیر معمولی صفات کو ماننا اسے خدا بنانا ہے۔ مگر اسٹالن کے بارے میں سالہا سال تک ہمارا عقیدہ یہی تھا جس کی تردید اس کے مرنے کے بعد سینٹرل کمیٹی نے کی ہے۔‘‘ ’’اسٹالن سمجھانا بجھانا نہیں جانتا تھا بلکہ وہ اپنے خیالات کو زبردستی منواتا تھا اور لوگوں سے اندھی اطاعت کا مطالبہ کرتا تھا۔ جس نے بھی اس کی اطاعت نہیں کی یا اس کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔ سترہویں پارٹی کانگریس کے بعد خاص طور پر پارٹی کے بہت بڑے بڑے لیڈر اور کارکن اس کی مطلق العنانی کا شکار ہو گئے۔‘‘ ’’اسٹالن نے ’عوام دشمن‘ کی اصطلاح ایجاد کی جس کا مطلب خود بخود یہ ہو گیا کہ ایک شخص ۷ سوویت لینڈ یکم جون ۱۹۵۶ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader