Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

کی رائے خواہ صحیح ہو یا غلط لازماً قبول کی جانی چاہئے۔ اس اصطلاح کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی شخص جو کسی بھی پہلو سے اسٹالن کی تائید نہ کرتا ہو یا جس کے بارے میں ایسا شبہہ کیا جائے ، اس کے خلاف ہر ظالمانہ سلوک کیا جا سکتا ہے اور اس کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ " عوام دشمن " کی اس اصطلاح کے بعد اختلاف رائے اور کسی معاملہ میں بحث و نظر کے بعد ایک نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا ناممکن ہو گیا۔ ایسے تمام مجرمین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے جو قانونی بنیاد فراہم کی گئی وہ اعتراف تھا جو جسمانی اذیتوں کے ذریعہ اگلوایا جاتا تھا۔" (confession) " ایک شخص کی من مانی کارروائی نے دوسروں کو بھی مطلق العنان بنا دیا۔ بیشمار لوگ گرفتار ہوئے، ہزاروں آدمی جلا وطن کر دیئے گئے۔ کسی عدالتی کارروائی اور تحقیق اور تفتیش کے بغیر سزائیں دی گئیں۔ اس چیز نے عام طور پر بد امنی اور خوف کی فضا پیدا کر دی اور لوگوں کو مایوس بنا دیا۔" " حال میں خاص طور پر بیریا کے گروہ کا صفایا کرنے کے بعد سینٹرل کمیٹی نے بہت سے واقعات کی تحقیق کی جو اس گروہ نے اپنے زمانے میں گھڑے تھے۔ اس سے اسٹالن کی وحشیانہ خود آرائی کے بارے میں بڑی بھیانک حقیقتوں کا انکشاف ہوا۔ معلوم ہوا کہ اسٹالن نے اپنے لامحدود اختیارات کو بہت غلط طریقہ سے استعمال کیا تھا۔ وہ سینٹرل کمیٹی کے نام پر کارروائیاں کرتا تھا مگر کمیٹی کے ممبروں سے ان کی رائے تک دریافت نہیں کرتا تھا، نہ کمیٹی کی پولیٹکل بیورو سے مشورہ کرتا تھا۔ اکثر نہایت اہم معاملات میں اس نے اپنے ذاتی فیصلوں کی انھیں اطلاع تک نہیں دی۔" " جنگ کے بعد سات سال تک کوئی کانگریس نہیں بلائی گئی۔" " یہ واضح ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ جو ۳۸-۱۹۳۷ میں " دشمن " قرار دیئے گئے تھے وہ حقیقتاً دشمن نہیں تھے، نہ جاسوس تھے، نہ توڑ پھوڑ کرتے تھے بلکہ اکثر نہایت وفادار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page