فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
کمیونسٹ تھے۔ ان کو بدنام کیا گیا اور سخت جسمانی عذاب کے ذریعہ ان سے زبردستی ہولناک جرائم کا اقرار کرایا گیا۔ اسی زمانے کا واقعہ ہے کہ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے ۱۳۹ ممبر جو ستر ہویں کانگریس میں چنے گئے تھے ان میں سے ۹۸ ممبروں یعنی ستر فی صدی کو گرفتار کر کے گولی ماردی گئی۔ یہ انجام صرف سنٹرل کمیٹی کے ممبروں ہی کا نہیں ہوا بلکہ اٹھارویں پارٹی کانگریس کے مندوبین (Delegates) کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا۔ ان کی اکثریت یعنی ۱۹۶۶ مندوبین میں سے ۱۱۰۸ کو انقلاب دشمن‘‘ جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔‘ ’’ نفرت انگیز بہتان اور مجرمانہ کارروائیوں کی ایک شرمناک مثال ایکے (Eikhe) کا واقعہ ہے جو سنٹرل کمیٹی کی پولیٹکل بیورو کے لیے امیدوار تھا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کا ایک ممتاز کارکن تھا۔ وہ ۱۹۰۵ سے پارٹی کا ممبر تھا۔ ایکے ۲۹/ اپریل ۱۹۳۸ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے سرکاری سامان میں خورد برد کیا ہے۔ ایکے کے مقدمہ کی تفتیش جس طرح کی گئی وہ وحشیانہ دروغ بیانی کی ایک بدترین مثال ہے۔ ایکے کو شدید جسمانی عذاب دے کر مجبور کیا گیا کہ وہ اعتراف جرم کی ایک ایسی دستاویز پر دستخط کرے جس کو محکمہ تفتیش کے بچوں نے تیار کیا تھا۔ جس میں وہ اور دوسرے بہت سے ممتاز پارٹی کارکن عوام دشمن سرگرمیوں میں ماخوذ کئے گئے تھے۔ ۴ فروری کو ایکے کو گولی سے مار دیا گیا۔ اس طرح کے اور بہت سے مقدمے ہیں جو محض بہتان اور جعلسازی کی بنیاد پر کھڑے کئے گئے تھے۔‘‘ ’’ جب اسٹالن کسی شخص کے بارے میں کہہ دیتا کہ اس کو گرفتار کر لیا جائے تو اس وقت یہ ایمان لانا ضروری تھا کہ وہ شخص عوام کا دشمن‘‘ ہے۔ ان دنوں بیریا کا گروہ جو ریاستی تحفظ کا ذمہ دار تھا، گرفتار شدہ شخص کو مجرم بنانے اور اس کے خلاف اپنے جھوٹے الزامات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے نہایت تیزی سے حرکت کرتا تھا، اور وہ ثبوت کیا ہوتا تھا—

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader