Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تقریر میں اسٹالن کے جن ہولناک جرائم کا اعتراف کیا گیا ہے اس نے کیمونسٹ کے مومنین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ چنانچہ ان واقعات کی اشاعت کے بعد ساری دنیا میں بہت سے کیمونسٹ ممبر پارٹی سے استفادے چکے ہیں۔ امریکہ کا مشہور کیمونسٹ ادیب ہاورڈ فاسٹ (Howard Fast) بھی انھیں استعفا دینے والوں میں ہے جو گزشتہ ہیں سال سے پارٹی کا اہم رکن تھا۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے: ’’خروچیف کی خفیہ تقریر کی اشاعت سے بہت پہلے میں نے اور کیمونسٹ پارٹی کے دوسرے ممبروں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ عالمی کیمونسٹ تحریک میں کوئی المناک خامی موجود ہے۔ ان باتوں نے مجھ میں اور بہت سے دوسرے لوگوں میں ایک تبدیلی کے رجحان کی ابتداء کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود ہم خروچیف کی خفیہ رپورٹ کے آتشیں اور جہنمی انکشافات کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس دہشت کی حدیں ہمارے خواب و خیال سے بھی پرے تھیں جو سوویت یونین کے دشمن اس پر عائد کرتے تھے۔ میرا دل نفرت اور حقارت سے بھر گیا۔ مجھے اس احساس سے لامحدود ذہنی کوفت ہو رہی تھی کہ میں خون کی اس سفاکانہ ہولی کی تائید کرتا رہا ہوں۔ دوسروں کی طرح مجھے بھی یہ محسوس ہوا کہ میں تاریخ جدید کے ایک ناقابل بیان دھوکے کا شکار ہوا۔‘‘ خروچیف کی مبینہ رپورٹ جس کے بعض حصے ہم نے اوپر نقل کیے ہیں اس کی اشاعت کے بعد فرانس کی کیمونسٹ پارٹی نے سوویت یونین کی کیمونسٹ پارٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ اسٹالن کی طرف جو ہولناک جرائم منسوب کیے گئے ہیں ان کی مکمل نظریاتی وضاحت کی جائے۔ اس پر سوویت یونین کی کیمونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے ایک طے شدہ بیان جاری کیا جو سوویت لینڈ ۱۵ جولائی ۱۹۵۶ کے ساتھ شکل ضمیمہ نمبر ۱۴ شائع ہوا ہے۔ اس میں اس سوال کی وضاحت کی گئی ہے کہ’’آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ اسٹالن کی ڈکٹیٹر شپ اپنے تمام برے نتائج کے ساتھ سوویت اشتراک کی نظام کے حالات میں ابھری ۷ ماہنامہ تحریک، (دہلی) جون ۱۹۵۷ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page