فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس طرح پھیل گئی ۔ یہ بیان تمام تر تضاد بیانی سے بھرا ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسٹالن ازم کے ابھرنے کے اسباب سوویت سماجی نظام میں نہیں ہیں بلکہ اس کی ذمہ داری تمام تر خود اسٹالن پر ہے اور اس بات پر ہے کہ اشتراکی ریاست کا وزیر اعظم بننے کے بعد وہ سماج کی خدمت کرنے کے بجائے اپنی ذات کی پرستش میں مبتلا ہو گیا اور اپنے کو عوام سے بالاتر کر لیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب اشترا کی حضرات کے دعویٰ کے مطابق روس میں لوٹنے والے طبقوں کو ختم کر دیا گیا تھا ، جب وہاں ذرائع پیدا وار پر سماج کی ملکیت قائم ہو چکی تھی، جب سوویت نظام کے تحت حکومت کے اختیارات کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں تھے بلکہ پورے محنت کش طبقہ کی طرف منتقل کر دیئے گئے تھے تو آخر کس طرح ایک شخص وہاں کے تمام اختیارات پر قابض ہو گیا۔ اجتماعی ملکیت کے نظام میں انفرادی ملکیت کی برائیاں کیسے پیدا ہو گئیں ، کیا اشتراکیت کے مخالفین کا یہ اعتراض صحیح ہے کہ اشتراکی نظام ڈکٹیٹر شپ کی بدترین شکل ہے جس کو خوب صورت نظریات کا لباس اڑھا دیا گیا ہے۔ کیا اشتراکی نظام میں بھی اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ اس ایک شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اتفاق سے ریاست کا حاکم منتخب ہو جائے ۔ کیا ’’مزدور ڈکٹیٹر شپ‘‘ اس کا نام ہے کہ ساری آبادی کو مزدور بنا کر محض ایک شخص ان کے اوپر ڈکٹیٹر بن جائے ۔ روسی کمیونسٹ پارٹی نے اس واقعہ کی جو توجیہہ کی ہے وہ مارکسی نظریات کے عین برعکس ہے ۔ کیوں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسٹالن کے بگاڑ کے اسباب خود اس کی ذات میں تھے، نہ کہ وقت کے مادی ماحول میں ۔ بیسویں صدی کی ابتداء میں لینن اور اس کے ساتھیوں نے نارودنکوں (روس کا ایک اشترا کی حلقہ) کی اس بنا پر سخت مخالفت کی تھی کہ ’’ ان کے خیال کے مطابق ، تاریخ کا انحصار سماجی طبقوں اور ان کی آپس کی کش مکش پر نہیں بلکہ ان نمایاں افراد (ہیروؤں) پر ہے جن کی عوام الناس آنکھ بند کر کے پیروی کرتے ہیں !‘‘۔ مگر آج نارودنکوں کے اسی غلط اور رجعت پسندانہ نظریہ کو اسٹالن ازم کی تاویل و تشریح میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ان حضرات سے اگر پوچھا جائے کہ ہٹلر کیوں جرمن کا ڈکٹیٹر بن گیا تو وہ کبھی نہ کہیں گے کہ ڈکٹیٹر شپ کے جراثیم ہٹلر کے ۷ ہسٹری آف دی بالشویک پارٹی، صفحہ ۱۲- ۱۳

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader