فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
دماغ میں پیدا ہوئے اور یہ محض اس کا شخصی کردار تھا جس کی وجہ سے وہ جرمنی کے سر پر مسلط ہو گیا۔ وہ ہمیشہ یہی کہیں گے اور یہی کہتے رہے ہیں کہ ڈکٹیٹر شپ کے ظہور کے اسباب اس طریقہ پیداوار میں ہیں جو ملک کے اندر موجود تھا۔ ہٹلر کی ظالمانہ حکومت اس کے انفرادی عمل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ وہ دراصل پیداوار اور تبادلہ کے اس طریقہ کا لازمی نتیجہ تھی جو اس وقت جرمنی میں رائج تھا۔ ہٹلر دراصل کوئی شخصی کردار نہیں تھا بلکہ جرمنی کے ظالمانہ طریقہ پیداوار نے مفاد کے تحفظ کے لیے ہٹلر کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ مارکس کا تو سارا فلسفہ یہی ہے کہ افراد محض وقت کے مادی حالات میں کھلونا ہوتے ہیں۔ مارکسی مفکرین ہمیشہ تاریخ کے اس تصور کا مذاق اڑاتے رہے ہیں کہ افراد بھی اپنے ارادہ سے حالات کو بناتے یا بگاڑتے ہیں۔ مگر روس میں پیداوار کی تقسیم کے نظام کی تبدیلی کے بعد جب یہی چیز رونما ہوئی تو اس کی ذمہ داری انھوں نے ایک شخص پر ڈال دی تا کہ اشتراکی طریقہ پیداوار پر حرف نہ آئے۔ حالاں کہ یہ واقعہ کھلا ہوا اس بات کا ثبوت تھا کہ یا تو مارکس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ انسان کا ذہن اور اس کا کردار ویسا ہی بنتا ہے جیسا اس کا مادی ماحول ہو، یا اشتراکی طریقہ پیداوار میں بھی اسی طرح ظلم و جبر اور استحصال کا نظام جاری رہتا ہے، جیسا کہ سرمایہ دار سوسائٹی میں ہوتا ہے۔ ورنہ جب روس میں مارکسی نظریہ کے مطابق، معاشی حالات بدل دیئے گئے تو وہاں ڈکٹیٹر شپ کیوں ابھری۔ ایک چوتھائی صدی سے زیادہ عرصہ تک روس کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ وہاں ملکیتیں سارے سماج کے قبضہ میں دے دی گئی ہیں۔ وہاں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہو گیا ہے۔ وہاں ریاست ظلم و جبر کا آلہ نہیں بلکہ عوام کی خادم ہے۔ وہاں حکومت اور رعایا کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ مگر جب پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ سب محض جھوٹا پروپیگنڈا تھا۔ اسٹالن جو اس پورے عرصہ میں اس نظام کا حاکم اعلیٰ تھا وہ اول درجہ کا ظالم اور خود غرض ثابت ہوا۔ بیریا مالؤف، مالنکوف، شپلوف، کگانووچ زوکوف اور بہت سے دوسرے لوگ جو اسٹالن کی رفاقت میں سارے نظام کو چلا رہے تھے، سب کے سب انسانیت کش اور سماج کے دشمن نکلے۔ انگلینڈ یا امریکہ میں اگر کوئی حکومت بگڑ جائے تو پبلک میں طوفان مچ جائے گا۔ مگر اشتراکی نظام نے ان ظالموں کو اس قدر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader