فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیارات دے دیئے تھے کہ ملک کے اندر کوئی ایک زبان بھی اس کے خلاف بولنے کی جرات نہ کرسکی، نہ پریس سے اس کے بارے میں کوئی مضمون شائع ہوا۔ سوویت یونین کی سوویتوں کی آٹھویں کانگریس میں منعقدہ ۲۵ رنومبر ۱۹۳۶ میں جب اسٹالن نے اعلان کیا کہ روس میں انسانوں کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہوگیا ہے‘ تو حاضرین بہت دیر تک تعریف وتحسین کے نعرے لگاتے۔ اسٹالن کی زندگی تک یہ حال تھا کہ روس میں ہر تقریر کو خواہ وہ کسی بھی موضوع پر ہو، ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا جاتا تھا’’ زندہ باد اسٹالن‘‘ پائندہ باد اسٹالن‘‘۔ تقریر کے اختتام کا یہ انداز تقریر کی کامیابی کا ضامن تھا۔ کیوں کہ ایسے جملہ کے بعد مسلسل تالیاں اور مسرت کے فلک شگاف نعرے لازمی تھے۔ مگر یہی اسٹالن اپنی موت کے تین سال کے بعد قاتل لٹیرا اور اناڑی سیاست داں جیسے خطاب سے نوازا گیا۔ ۳۵ سال تک اعلان کیا جاتا رہا کہ’’ سوویت طرز کی حکومت تاریخ کا بہترین طرز حکومت ہے‘‘۔ ’’سوویت یونین میں سارا اقتدار ملک کے جائز مالکوں یعنی محنت کشوں کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ ’’۲۰ کروڑ سوویت عوام انسانی تاریخ میں وہ پہلے انسان ہیں جو اپنے ملک کے ایک آزاد ملک کی تمام تر دولت کے پورے طور پر مالک ہوگئے ہیں۔‘‘ مگر جب پردہ اٹھاتو معلوم ہوا کہ اس سے بدتر نظام حکومت شاید تاریخ میں کبھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ کمیونزم کے بعض عقیدت مند یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم نے مانا کہ اسٹالن نے انقلاب کے ساتھ غداری کی، مگر اس سے اشتراکی اصولوں کی حقانیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ نظریہ الگ چیز ہے اور اس کو ماننے والے افراد کا کردار بالکل علیحدہ چیز ہے۔ اگر کسی نظریہ کو ماننے والے افراد بگڑ جائیں تو اس سے اصل نظریہ کے غلط ہونے پر کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ پر تو بالکل صحیح ہے مگر اس سے ان لوگوں کے نظریہ کی تائید نہیں ہوتی جواس کو پیش کررہے ہیں۔ ایک ایسا نظریہ جو افراد کے کردار کو خود افراد کے اپنے ارادہ وشعور کا نتیجہ قرار دیتا ہو، جس کے نزدیک افراد وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ خود کرنا چاہتے ہوں۔ اس کے بارے میں تو ضرور یہ کہا ۷ سوویت ڈیموکریسی اینڈ بورژوا ڈیموکریسی صفحہ ۴

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader