Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

جا سکتا ہے کہ نظریہ کو ماننے والے افراد کے بگڑ جانے سے اس نظریہ کی خرابی ثابت نہیں ہوتی، کیوں کہ وہ نظریہ افراد کو ایک با اختیار ہستی تسلیم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک افراد اسی حد تک اصلاح یافتہ ہوں گے جس حد تک وہ خود نظریہ کو اختیار کریں۔ مگر مارکسزم تو اس کے بالکل برعکس ایک نظریہ ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ شعور بذات خود کوئی چیز نہیں وہ صرف اپنے مادی ماحول کی پیداوار ہے۔ دوسرے لفظوں میں آدمی جو کچھ کرتا ہے اس لیے نہیں کرتا کہ وہ اپنے ارادہ و شعور کے تحت ایسا کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لیے کرتا ہے کہ وقت کے مادی حالات نے اس سے کرنے کے لیے کہا ہے۔ پہلے قسم کے نظریہ کا کہنا ہے کہ انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کی فکر کو بدل دو، اس کے برعکس مارکس کا کہنا ہے کہ انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے معاشی حالات کو بدل دو۔‘ پہلی صورت میں بہتر حالات لانے کے لیے انسان کے رجحانات اور تصورات کو بدلنے پر ساری کوشش صرف کی جائے گی تا کہ وہ اس کے لیے تیار ہو سکے کہ اپنے ارادہ کو غلط سمتوں سے بچا کر صحیح سمت میں لگائے۔ اس کے برعکس مارکسزم کے نزدیک اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ معاشی حالات کو بدلا جائے۔ اس کے نزدیک معاشی حالات ہی سے شعور اور ارادہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جب معاشی حالات بدل دیئے جائیں تو خود بخود شعور تبدیل ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں جب کسی علاقے میں معاشی حالات اور لین دین کے طریقہ کو تبدیل کر دیا جائے تو خود بخود انسان کو بھی بدل جانا چاہئے۔ اگر معاشی حالات کی تبدیلی کے بعد بھی انسان نہ بدلیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ وہ نظریہ غلط تھا جس کے تحت سماج کی اصلاح کے لیے معاشی حالات کو بدلنے کا پروگرام وضع کیا گیا تھا۔ وہ فرد کی خرابی نہیں بلکہ خود نظریہ کے غلط ہونے کا ثبوت ہے۔ پہلی قسم کے نظریہ کے تحت قائم شدہ نظام میں اگر افراد کی اصلاح نہ ہو تو کہا جائے گا کہ افراد نے پوری طرح نظریہ قبول نہیں کیا ہے۔ ان کے ارادہ پر ابھی تک نظریہ کی حکمرانی قائم نہیں ہوئی ہے۔ وہ انانیت اور خود پرستی کا شکار ہیں۔ اس کے برعکس مارکسی نظریہ کے تحت قائم شدہ نظام میں اگر افراد کی اصلاح نہ ہو تو اس سے خود نظریہ کی تردید ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ شعور نہیں پیدا کرتا بلکہ شعور مادہ سے الگ ایک مستقل چیز ہے جو خود مادہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page