فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مارکسزم شعور کو بالکل مادہ کی مخلوق تسلیم نہیں کرتی بلکہ اس کی مستقل بالذات حیثیت کا بھی اقرار کرتی ہے، جیسا کہ مارکس کی وفات کے بعد اس کے رفیق فریڈرش انگلس نے مسٹر جوزف بلاک کے نام اپنے خط مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۸۹۰ میں لکھا تھا۔ مگر یہ تاویل اختیار کرنا مارکسزم کی بنیاد ہی کو سرے سے ڈھادینا ہے۔ مارکس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان مسلسل کش مکش اور لوٹ کھسوٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس معاشی نظام کو بدل دیا جائے جو اس دائمی فساد کا ذمہ دار ہے اور جس میں نامعلوم مدت سے انسان زندگی گزارتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے نزدیک انفرادی ملکیت کے نظام کو اجتماعی ملکیت کی شکل دے دینے کے معنی یہ تھے کہ خود انسان کے اخلاق اور کردار کو بدل دیا گیا ہے۔ لیکن اگر اس مادی تبدیلی کے بعد بھی انسان کا شعور نہیں بدلتا جیسا کہ انگلس اور دوسرے اشتراکی مفکرین نے مارکس کے نظریہ کی توجیہہ کرتے ہوئے کہا ہے۔ اگر اشتراک کی سماج میں انسان کے لیے یہ موقع باقی رہتا ہے کہ وہ اسی طرح لوٹ کھسوٹ کی باتیں سوچ سکے جس طرح وہ غیر اشتراکی نظام میں سوچتا ہے تو پھر کس بنا پر یہ توقع کی جائے کہ اشتراکی نظام میں استحصال کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ انسانی شعور کی مستقل بالذات حیثیت تسلیم کرنے کے معنی دراصل یہ ہیں کہ ملکیتی نظام کی تبدیلی کے بعد بھی یہ خطرہ باقی ہے کہ انسان کے اندر انحراف پیدا ہو اور سماج کے کچھ لوگ موقع پا کر سماج کے سروں پر مسلط ہو جائیں، جس طرح ہٹلر جرمنی کے اوپر مسلط ہو گیا تھا۔ مارکس نے جمہوری نظام کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ اس میں افراد کے لیے یہ موقع باقی رہتا ہے کہ نئے عنوان سے وہ سماجی اختیارات پر قابض ہو جائیں۔ پھر جب اشتراک کی نظام میں بھی افراد کے لیے یہ موقع باقی رہا کہ وہ چاہیں تو عوام کی گردن پر سوار ہو جائیں اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک سارے سماج کو اپنا غلام بن کر رہنے پر مجبور کر دیں تو دونوں میں فرق کیا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکس کے نظریہ کو اگر خود اس کے الفاظ کے مطابق، بالکل ٹھیک شکل میں مانا جائے تو تجربہ نے اس کی تردید کر دی ہے اور اگر انگلس اور دوسرے مارکسی مفکرین کی تشریح کے مطابق اسے مانا جائے تو پھر کسی تجربہ کی ضرورت نہیں، یہ نظریہ اپنی تردید آپ کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader