Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

سرمایہ دار طبقہ مارکس کی شریعت میں ٹھیک وہی مقام رکھتا ہے جو الہی شریعتوں میں شیطان کا ہے۔ وہ سرمایہ دار طبقہ کو بحیثیت طبقہ کے ختم کر دینا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک وہی ساری برائیوں کی جڑ ہے اور سماجی انتظام کے تمام مواقع محنت کش طبقہ کے حوالے کر دینے کا علم بردار ہے۔ مگر ''سرمایہ دار‘‘ کون ہے۔ یہ اب تک واضح نہیں کیا جاسکا۔ مارکس پورے زور و شور کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانی تاریخ دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے اور صنعتی انقلاب کے بعد تو اس کے نزدیک یہ تقسیم بالکل واضح ہوگئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے‘‘ اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔‘‘ مگر کیا یہ بات اتنی ہی واضح ہے جتنی کہ مارکس اسے بتاتا ہے۔ کیا حقیقتاً انسانوں کے درمیان ایسا کوئی خط کھینچنا ممکن ہے جس کے متعلق آپ کہہ سکیں کہ اس کے پار جو لوگ ہیں وہ سرمایہ دار ہیں اور اس پار غیر سرمایہ دار۔ اشتمالی منشور میں سرمایہ دار طبقہ کو انسانی آبادی کا صرف دس فیصدی حصہ بتایا گیا ہے۔ اشتراکیت پر جبر و تشدد کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تاریخ کے پچھلے ادوار میں اقلیت نے اکثریت پر ظلم کیا تھا۔ اب جو مزدور دور انقلاب آ رہا ہے۔ اس میں اکثریت ایک محدود اقلیت کو دبا کر رکھے گی۔ مگر عملًا جب روس میں ’’محروم طبقہ‘‘ نے اقتدار حاصل کیا اور سرمایہ داروں کو ایک طبقہ‘‘ کی حیثیت سے ختم کرنے کی مہم شروع ہوئی تو وہ نہ زار پر رکی، نہ جاگیرداروں اور کارخانہ داروں پر، بلکہ دن بدن اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ ملک کی بیشتر آبادی جو چھوٹے چھوٹے قطععات پر کھیتی کرنے والے کسانوں پر مشتمل تھی۔ ان سب کو آخری اور‘‘ امکانی سرمایہ دار قرار دے دیا گیا اور صرف یہی نہیں بلکہ خود جدلیاتی فلسفہ کے مومنین، یعنی کمیونسٹ پارٹی کے بے شمار ارکان ’’سرمایہ داروں کے ایجنٹ‘‘ نکلے جن کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر صفائی‘‘ کی مہم جاری کرنی پڑی۔ پچھلی دو بڑی لڑائیوں کے درمیانی دور میں سوویت روس کے اندر پندرہ لاکھ سے بیس لاکھ پارٹی ممبروں کا صفایا کیا گیا۔ 1921ء میں لینن نے مرکزی کمیٹی کو یہ مشورہ دیا کہ پارٹی کو تمام بدماشوں‘ نوکرشاہی ذہنیت رکھنے والوں، بے ایمان اور مذہب کمیونسٹوں‘ سے پاک کر دیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page