Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے۔ چنانچہ 1921 میں مرکزی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق، ایک عام اخراج کا انتظام کیا گیا۔ جس میں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار ممبر نکال دیئے گئے ۔ اور یہ تعداد اس وقت کے پارٹی ممبروں کی تعداد کا ۲۵ فیصدی تھی۔ دوسرے کمیونسٹ ممالک کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ پھر سرمایہ دارانہ جراثیم کا سلسلہ یہاں بھی نہ رکا، بلکہ وہ لوگ جنھیں ''اشتراکِی محنت کے ہیرو‘‘ کا خطاب ملا تھا۔ جو پچھلے چالیس سال سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک ایک سرمایہ دار کا خاتمہ کر رہے تھے۔ جب پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی بورژوا کے انڈے بچے ہیں۔ اسٹالن ، مولوف، بیریا، گلاپوچ اور دوسری نمایاں شخصیتیں محنت کش طبقہ کی دشمن اور سرمایہ داروں کی ایجنٹ نکلیں۔ یہاں تک کہ آدھی صدی کی مار دھاڑ اور ’’عظیم اشتراکی تعمیر‘‘ کے باوجود کمیونسٹ سرزمین میں ’’ سرمایہ داری کے بچے کچے عناصر‘‘ اب تک موجود ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اس بچے کچے عناصر کی نامعلوم فہرست میں کل کس کمیونسٹ لیڈر یا وزیر کا نام نکل آئے گا۔ مارکسزم کا یہ بہت بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف وہ سرمایہ دار طبقہ کو گردن زدنی قرار دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ سماج کا دشمن ہے اور انتظامِ ملکی کی ذمہ داری مزدور لیڈروں کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے خیال میں مزدور طبقہ ہی سماج کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ طبقہ ہے وہ جدلیاتی شعور رکھتا ہے اس کو تاریخ نے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ ’’اپنی نجات کی کوشش میں سارے سماج کو نجات دے دے‘‘ پھر ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘، اس دودھ کا مکھن ہے، وہ محنت کش طبقہ کا ہر اول دستہ ہے۔ وہ مزدوروں کی طبقاتی تنظیم کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ اس میں مزدور طبقہ کے بہترین عناصر جمع ہوگئے ہیں۔ اس لیے وہی اس قابل ہے کہ اس کے ہاتھ میں سماجی معاملات کی زمام کار دی جائے۔ مگر دوسری طرف مارکسزم کے علمبردار خود اپنے عمل سے مسلسل یہ ثابت کرتے رہے ہیں کہ اشتراکِی نظریہ کی یہ تشریح صحیح نہیں ہے۔ مزدور طبقہ اور کمیونسٹ پارٹی دونوں اسی طرح بالکل نا قابلِ اعتبار ہیں جس طرح ان کے بیان کے مطابق سرمایہ دار طبقہ ۔ مزدوروں کی معصومیت صرف اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ بے بس ہسٹری آف دی کمیونسٹ پارٹی (B) صفحہ ۷۲۷ بمبئی ۱۹۴۲ء۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page