فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں۔ اسی طرح کمیونسٹوں کی حقیقت بھی صرف اسی وقت تک چھپی رہتی ہے جب تک ان کی سیرت ظاہر ہونے کا کوئی موقع نہ ملے۔ جہاں کہیں موقع ملا وہ کسی اعتبار سے بھی سرمایہ داروں سے کم لٹیرے اور ظالم ثابت نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے مارکس کے ہم عصر اشتراکیوں اور مزدور لیڈروں کو لیجئے۔ وہ اگر چہ محنت کش طبقہ کے وکیل اور سوشلسٹ طرز پر زندگی کے مسئلہ کو حل کرنے کے علم بردار تھے مگر مارکس اور اینگلس نے ان کا مذاق اڑایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ سرمایہ داری کی اولاد ہیں۔ وہ نظریہ باز اور رجعت پسند ہیں۔ انھوں نے وقت کے ظالم حکمرانوں سے ساز باز کر رکھی ہے۔ وہ مزدوروں کے مقابلے میں اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ بورژوا پر تنقید کرتے ہیں مگر عملی سیاست میں وہ مزدوروں پر جبر و تشدد کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ‘‘ اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے سرمایہ دار طبقہ سے مصالحت کر لیتے ہیں، ان کی اشتراکیت کا آخری مقصود صرف یہ ہے کہ مزدور کو مطمئن کر کے اسے سرمایہ دار کے خلاف کش مکش کرنے سے باز رکھیں تا کہ سرمایہ دار بے خوف و خطر اپنی لوٹ جاری رکھ سکیں۔ دوسری انٹر نیشنل __ مزدور طبقہ کی بین الاقوامی جماعت جو ۱۸۸۹ میں قائم ہوئی، جس میں تمام دنیا کے مزدور شریک تھے۔ اشتراکی حضرات کے قول کے مطابق، پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ایک دو کے سوا اس کے تمام نمائندوں نے مارکسی نظریات سے ’’غداری‘‘ کی۔ وہ لوٹ کھسوٹ کرنے والے سرمایہ داروں کے ایجنٹ بن گئے اور انھوں نے محنت کش طبقہ کے عالمی مفاد کے خلاف کام کیا اور ’’نہایت شرمناک طریقہ پر‘‘ تنظیم کو ختم کر دیا۔ انھوں نے ’’موقع پرستی‘‘، اختیار کی اور ’’سیاسی سودے بازی‘‘ میں مبتلا ہو گئے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، روسی مزدوروں کی جماعت جو انقلاب سے پہلے لینن کی رہنمائی میں قائم ہوئی تھی، اس میں ایک بہت بڑا گروہ جو اگر چہ منشویک (اقلیت) کہا جاتا ہے، مگر در حقیقت وہ نصف کے قریب تھا۔ ۱۹۱۲ میں جو چوتھی دوما (زار کے زمانے کی روسی پارلیامینٹ) منعقد ہوئی تھی اس میں منشویک کے نمائندے سات اور بالشویک کے صرف چھ تھے۔ جون ۱۹۱۷ میں تمام ملک کے سوویتوں کی پہلی کانگریس منعقد ہوئی۔ اس کانگریس میں بالشویک کے مقابلہ میں منشویک نمائندے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader