Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثریت رکھتے تھے۔ اس کا حال یہ ہوا کہ اس نے ’’وقت کے بہرام مسئلہ پر مارکسزم سے انحراف کیا اور بالآخر انقلاب دشمنی کی راہ اختیار کی‘‘۔ پارٹی کی دوسری کانگریس (لندن، ۱۹۰۳ء) میں یہ لوگ ایک گروہ کی شکل میں ظاہر ہوئے اور پراگ کانفرنس (۱۹۱۲ء) میں انھیں پارٹی سے خارج کر دیا گیا۔ روس کے چوٹی کے لیڈر جنہوں نے لینن کے ساتھ ’’عظیم اشتراکی انقلاب‘‘ کے لیے جدوجہد کی تھی، جو کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز تھے، انہوں نے ’’غداری‘‘ کی اور ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے جن کی سزا قتل تھی۔ اس میں ’’روس میں مارکسیت کا بانی‘‘ جارج وی پلخوف سے لے کر لینن کے بعد بالشویک پارٹی کا سب سے بڑا لیڈر ٹراٹسکی، کمیساروں کی کمیٹی کا صدر کا مانعفل کنٹرول اور سینٹ پیٹر زبرگ سوویت کا صدر زنیوویف، اخبار پراودا کا چیف ایڈیٹر اور کنٹرن کی انتظامی کمیٹی کا ممبر بخارن، ٹریڈ یونین کونسل کا صدر ٹو مسکی جیسے لوگ شامل ہیں۔ یہ سب کے سب اپنی مذکورہ بالا حیثیتوں کے علاوہ پولٹ بیورو کے رکن بھی تھے۔ ان کے علاوہ بے شمار مزدور، کسان اور کمیونسٹ خود اشترا کی بیان کے مطابق ’’غدار‘‘ اور ’’عوام دشمن‘‘ ہو گئے۔ لینن کے بعد روسی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین لیڈروں میں سے کوئی بھی غداری سے نہیں بچا۔ یہی حال دوسرے ان تمام ملکوں کا بھی ہوا ہے جہاں کمیونزم نے عملاً غلبہ حاصل کیا ہے۔ کمیونسٹ ممالک میں ایک بر سر اقتدار شخص کے سوا ہر ایک کی وفاداری مشتبہ رہتی ہے اور کسی بھی وقت وہ ہولناک جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے اور جب اس صاحب اقتدار شخص کی حکومت ختم ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود سب سے بڑا غدار تھا۔ یہ اشتراکی ملکوں کے حالات ہیں جن کو خود اشترا کی حضرات بڑے زور و شور کے ساتھ نشر کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ کہتے ہوئے شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ خود اپنے نظریہ کی تردید کر رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ خود غرضی اور لوٹ کھسوٹ میں مزدور طبقہ اور کمیونسٹ پارٹی کے لوگ کسی طرح بھی سرمایہ داروں سے پیچھے نہیں ہیں۔ جہاں آج سرمایہ دار طبقہ ہے وہاں اگر ان حضرات کو بٹھا دیا جائے تو سرمایہ داروں سے بڑھ کر ظالم اور لٹیرے ثابت ہوں گے۔ پھر ایسے ناقابل اعتماد لوگوں کے ہاتھ میں سارے ذرائع و وسائل کا چارج دینا کس طرح کسی بہتر نظام کا سبب بن سکتا ہے؟

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page