فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی جبر پھر اس تضاد کا سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف اشتراکی ملکوں سے آئے دن انقلاب دشمن‘ سرگرمیوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں، جن میں بے شمار آدمی جیل یا پھانسی کی سزا کے مستحق قرار دیے جاتے ہیں، دوسری طرف جب وہاں انتخابات ہوتے ہیں تو تمام سرکاری امیدوار سو فی صدی ووٹوں سے کامیاب ہو جاتے ہیں ، گویا کہ وہاں جو لوگ بر سر اقتدار طبقہ کے مخالف ہیں ان کی مخالفتیں صرف اس وقت کام کرتی ہیں جب ان کا دشمن ان کے سر پر مسلط ہو چکا ہو، اور جب اس دشمن کو آئینی طور پر بدلنے کا موقع آتا ہے تو وہ اپنی مخالفت کو ختم کر کے دوبارہ اپنے انہی دشمنوں کے حق میں رائے دے کر انھیں سو فی صدی ووٹوں سے کامیاب بنا دیتے ہیں۔ آپ اخبار میں پڑھیں گے کہ فلاں کمیونسٹ ملک میں وزیر کے مکان پر بم پھینکا گیا ۔ ’’کمیونسٹوں کو قتل کر دو‘‘ کے نعرے لگائے گئے ۔ کمیونسٹ ریڈیو اعلان کرے گا کہ ملک میں ایک ’’انقلاب دشمن تنظیم‘‘ کا انکشاف ہوا ہے جو خفیہ طور پر تمام شہروں اور صوبوں میں کام کر رہی تھی۔ جس کا مقصد کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنا اور تمام کمیونسٹوں کو قتل کر دینا تھا۔ آپ سنیں گے کہ ہزاروں آدمی اشتراک کی جنت سے فرار ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے کامریڈ جن کے بارے میں کل تک عوام کا لیڈر ہونے کا دعویٰ کیا جاتا تھا، سازش کا مجرم قرار دے کر انھیں پھانسی دے دی جائے گی یا وہ خود ’’پارٹی سے غداری کے اظہار کے طور پر‘‘ خودکشی کر لیں گے۔ وزیر اور عہدیدار جو عوام کی حمایت سے چنے گئے تھے ان کو ہولناک سازش کے الزام میں گرفتار کر کے گولی ماردی جائے گی۔ ’’ صفائی‘‘ کی مستقل مہم جاری کی جائے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک میں ایسے بہت سے اشخاص موجود ہیں جو کمیونزم کے مخالف ہیں اور اب انھیں پتہ لگا کر ختم کیا جا رہا ہے۔ ہڑتال اور بغاوتیں ہوں گی ، کمیونسٹ دشمن مظاہرے ہوں گے، حکومت کے خلاف بڑی بڑی سازشیں پکڑی جائیں گی جن میں یہ بھی انکشاف کیا جائے گا کہ یہ سازش پچھلے ۳۰ سال سے خفیہ طریقہ پر کام کر رہی تھی۔ ’’ہزاروں لاکھوں آدمی اس بات کے مجرم قرار دیئے جائیں گے کہ وہ اس اسکیم کے مخالف ہیں جو کمیونسٹ پارٹی ملک میں نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہ سب کچھ ہوگا، اور اس سے کہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader