فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار کرتے ہیں تا کہ حکومت انھیں غیر قانونی کارروائی کے الزام میں ماخوذ کر کے ختم کر دے۔ زندگی اور موت ــــــــــــ دونوں راستے کھلے ہوئے ہیں، مگر یہ لوگ اس قدر احمق ہیں کہ جان بوجھ کر موت کے راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ دراصل سب سے بڑا تضاد ہے جس میں تمام کمیونسٹ ممالک مبتلا ہیں۔ جن ملکوں میں کمیونسٹ انقلاب کامیاب ہوا ہے، اس کے تجربہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمیونزم دراصل دنیا کا بدترین سماجی نظام ہے۔ اس سے زیادہ برانظام اب تک کسی نے ایجاد نہیں کیا تھا۔ وہاں کی پبلک شدید عذاب میں مبتلا ہے اور کمیونسٹ شکنجہ کو توڑ کر پھینک دینا چاہتی ہے۔ مگر کمیونسٹ حضرات کی خواہش ہے کہ اس بدترین نظام کو تاریخ کا بہترین نظام ثابت کر دکھائیں۔ وہ اپنے ملک کی انتہائی بیزار پبلک کو حکومت کے انتہائی وفادار کی حیثیت سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کمیونسٹ ممالک کے حالات پوری طرح سازگار تھے۔ کمیونسٹ ملکوں میں پریس پر حکومت کا مکمل قبضہ ہے۔ وہ ملک کے اندر سے کسی تردید کے خوف کے بغیر جو کچھ چاہے نشر کر سکتی ہے۔ وہ اگر ایسے اعلان کرے جو ملک کی پوری آبادی کی خواہشات کے خلاف ہوں تو سارے ملک میں اس کا کوئی باشندہ اس کے خلاف ایک بیان بھی شائع نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کمیونسٹ حکومتوں نے ایک منظم اسکیم کے تحت مسلسل یہ پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے کہ کمیونسٹ ممالک کی حکومتیں دنیا کی بہترین حکومتیں ہیں اور ان کو اپنے ملک کے باشندوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ چونکہ کمیونسٹ ممالک میں ہر شخص کا رزق براہ راست حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے انتخابات کے موقع پر لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ کمیونسٹ نمائندوں کے حق میں اپنا ووٹ دیں کیونکہ ان کی مخالفت کرنے کے معنی دراصل موت کے ہیں۔ اس طرح اپنے حق میں جبری رائےیں حاصل کر کے کمیونسٹ حکومتیں یہ اعلان کرتی ہیں کہ ان کے ملک کی ساری پبلک ان کے ساتھ ہے اور ان پر پورا اعتماد کرتی ہے۔ مگر جبر اؤر جھوٹے پروپیگنڈے سے کسی ملک کے واقعی حالات کو بدلا نہیں جا سکتا۔ حکومتیں سماجی انصاف کا اعلان کرتی ہیں مگر حقیقتاً وہاں سماجی ظلم پایا جاتا ہے۔ لوگ بظاہر حکومتوں کی تائید کرتے ہیں۔ مگر دلوں کے اندر حکومت کے خلاف آگ سلگ رہی ہے۔ بیلٹ پیپر پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader