فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ نمائندوں کے حق میں رائے درج کرتے ہیں مگر اندر اندر مستقل طور پر جوابی انقلاب کی خواہش امنڈ رہی ہے۔ چنانچہ تمام کمیونسٹ ملکوں میں حکومت کا مستقل کام یہ ہے کہ وہ ایسے افراد کو ڈھونڈ کر نکالے جو موجودہ نظام سے بیزار ہیں اور اس کو بدل کر دوسری بہتر حکومت لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اخبارات میں آئے دن یہ اطلاع آتی رہتی ہے کہ فلاں کمیونسٹ ملک میں ایک سازشی گروہ کا انکشاف ہوا ہے جو حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہتا تھا اور بڑے بڑے لیڈر اور حکام اس الزام میں گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیئے جاتے ہیں۔ کمیونسٹ حکومتوں کی اس دوطرفہ کارروائی نے خود ہی ان کے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کمیونسٹ حکومتوں کا یہ دعویٰ محض جھوٹا دعویٰ ہے کہ ان کے علاقہ میں پبلک پوری طرح مطمئن ہے اور حکومت سے اس قدر اتفاق رکھتی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے سوا کسی دوسری پارٹی کے بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ ظاہر ہے کہ اگر پبلک کے اطمینان کا وہی حال ہے جو آپ بتاتے ہیں تو جوابی انقلاب کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ جن میں خود آپ کے اقرار کے مطابق آپ کے ملک کے اعلیٰ ترین طبقہ کے لوگ شریک ہوئے ہیں۔ جب آپ کے یہاں انتخابات میں صد فی صدی ووٹر اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں اور تمام کے تمام ووٹ کمیونسٹ نمائندوں کے حق میں دیئے جاتے ہیں تو آخر یہ مخالفین کہاں سے وجود میں آگئے۔ کیا انتخاب کے وقت انھیں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا یا مخالفت کے باوجود انھوں نے ووٹ آپ ہی کو دیا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کے ملک میں اظہار رائے اور تنظیم کی مکمل آزادی ہے۔ پھر ان مخالفین نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ ملکی پریس میں آپ کے خلاف آواز بلند کرتے، اپنی علیحدہ جماعت بنا کر کوشش کرتے کہ آئینی طور پر موجودہ حکومت کو ہٹا سکیں ۔ یہ واقعات اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہیں کہ کمیونسٹ ممالک میں پبلک کے اندر زبردست بے چینی کے اظہار کے تمام آئینی دروازے بند ہیں۔ اس لیے وہ غیر آئینی طریقوں سے ظہور کر رہی ہے۔ کمیونسٹ حکومتوں کا ایک طرف یہ اعلان کرنا کہ انھیں انتخابات میں سو فی صدی ووٹ ملتے ہیں اور دوسری طرف ہزاروں آدمیوں کو اس جرم میں قید کرنا کہ وہ موجودہ کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader