Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہتے تھے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیونسٹ ممالک میں انسان کی آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ آدمی اگر موجودہ حکمراں گروہ سے اختلاف کرنا چاہے تو اس کے لیے تمام آئینی اور جمہوری دروازے بند ہیں۔ اس کو اس بات کی آزادی تو ضرور ہے کہ جب انتخابات کا ڈراما ہو تو اس میں حکمراں طبقہ کے نمائندوں کو اپنا ووٹ دے دے لیکن اگر وہ ان سے اختلاف رکھتا ہے یا انہیں بدلنا چاہتا ہے تو کھلے پلیٹ فارم پر اپنی اس رائے کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے اسے سازشوں اور خفیہ کارروائیوں کا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ روس کے نئے لیڈروں نے اعلان کیا ہے کہ اب کبھی روس میں اسٹالن کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی اور سوویت یونین خالص مارکسی لینی طریقہ پر عمل کر کے اشتراکیت کی تعمیر جاری رکھے گا۔ مسٹر خروشیف نے بیسویں کانگریس میں جو رپورٹ پیش کی تھی اس کے صاف معنی یہ تھے کہ مارکسزم اپنے اس دعوے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے کہ مادی حالات کی تبدیلی سے انسانی سماج کی اصلاح ہو سکتی ہے مگر روسی لیڈروں نے یہ اعتراف اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر لیں بلکہ اس کا محرک در اصل یہ واقعہ تھا کہ اسٹالن کی حکومت سے روس کی پبلک بے حد عاجز آ چکی تھی۔ اور آہنی گھیرے کے باوجود دنیا کے علم میں بھی یہ بات آ چکی تھی کہ روس کے اندر آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، اس لئے اسٹالن کے وارثوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی رعایا کو اور ساری دنیا کو یہ باور کرائیں کہ ان کی حکومت اسٹالن کی حکومت سے مختلف ہوگی۔ اس کی دو صورتیں تھیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ مارکسزم سے توبہ کر لیتے جو دراصل ان حالات کا واقعی سبب تھا اور اجتماعی ملکیت کا نظام ختم کر کے اپنے یہاں آزاد جمہوری نظام قائم کرتے۔ مگر وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ساری ذمہ داری ایک شخص کے اوپر ڈال دی انھوں نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ جو کچھ ہوا وہ اس طرز زندگی کا نتیجہ تھا جو روس میں عملاً رائج ہے کیوں کہ اس طرح خود ان کی غلطی بھی ثابت ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسٹالن کا ذاتی کردار تھا کہ اختیارات پا کر وہ روس کا ڈکٹیٹر بن گیا۔ چنانچہ انھوں نے اجتماعی قیادت (Collective leadership) کا نعرہ لگایا۔ انھوں نے کہا کہ اب ہمارے ملک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page