احترام انسانیت
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد دوسرا گروہ شارحین کا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، احادیث کی شرحیں کثرت سے لکھی گئیں ۔ ان شارحین نے حدیث اور روایت کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی بحثیں کی ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں بے حد ضروری مواد فراہم کیا ہے ۔ یہ مواد بے حد اہم ہے ۔ اس سے حدیث کی مختلف جہتیں معلوم ہوتی ہیں جو حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے بلا شبہ ضروری ہیں۔ لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرف آخر قرار دے دیں تو پیغمبرِ اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا۔ اور یہ فکری ارتقاء کے اعتبار سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہوگا۔ مثلاً مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے مختلف علما نے اس کا جو مفہوم بتایا ہے اس میں حدیث کا ایک اہم پہلو بیان ہونے سے رہ گیا۔ ان مختلف اقوال کو ابن حجر العسقلانی اور دوسرے شارحین کے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مطابق کسی شارح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا سبب ملائکہ کو بتایا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ آپ نے کراہتِ بخور (دھونی) کے لیے ایسا کیا۔ کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایسا کیا تھا مگر اب یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے (فتح الباری، جلد 3، صفحہ 216-215)۔ ایک قول کے مطابق، آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزرے اس لیے آپ کھڑے ہوگئے ( وَکَرِهَ أَنْ تُعَلُّوَ رَأْسَهُ جِنَازَةٌ يَهُودِيٍّ، فَقَامَ )۔ حدیث کی یہ تمام شرحیں علمی اور اصولی اعتبار سے درست نہیں ۔ یہ تمام شرحیں ذاتی قیاس پر مبنی ہیں نہ کہ کسی واقعی علمی دلیل پر۔ حدیث کا ظاہری متن واضح طور پر بتاتا ہے کہ آپ نے اس یہودی کو انسان کی حیثیت سے دیکھا اور بحیثیت انسان آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ یہ حدیث اپنے متن کے مطابق، احترام انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔ اب اس معاملے کو موجودہ زمانے کی نسبت سے دیکھیے۔ موجودہ زمانے میں اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader