مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
ادب کی دنیا کا یہ طرزِ فکر جب مذہب میں داخل ہو جائے تو اس کو تقلیدی فکر کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا تقلیدی فکر ذہنی ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دینے والا ہے۔ اور بلاشبہ ذہنی جمود سے زیادہ مہلک کوئی اور چیز کسی فرد یا گروہ کے لیے نہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں میں ذخیرۂ حدیث سے چند مثالیں دوں گا۔ احترام انسانیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ مختلف راویوں کے ذریعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ صحیح البخاری میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازے کو دیکھ کر اس کے احترام میں آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا (وہ مسلمان کا جنازہ نہ تھا)۔ آپ نے فرمایا: أَلَيْسَتْ نَفْسًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔ یعنی، کیا وہ انسان نہیں۔ امام البخاری کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں حدیثیں جمع کیں۔ پھر غیر معمولی محنت کے ذریعے (مکررات سمیت) ان میں سے 7563 حدیثیں منتخب کیں اور وہ قیمتی مجموعۂ احادیث تیار کیا جو صحیح البخاری کے نام سے ہمارے پاس موجود ہے اور جس کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے امام البخاری کا کارنامہ اتنا عظیم ہے کہ شاید اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ لیکن بعد کی نسلوں کو یہیں رک جانا نہیں ہے، بلکہ اور آگے بڑھنا ہے۔ مثلاً امام البخاری نے مذکورہ حدیث کو اپنے مجموعہ میں کتاب الجنائز (بَابٌ مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيّ) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ اپنی سوچ کو امام البخاری کے قائم کردہ ترجمۂ باب تک محدود کر لیں تو وہ اس حدیث کو صرف جنازہ کا ایک معاملہ سمجھیں گے اور اس سے جنازے کے مسائل نکالنے پر اکتفا کریں گے۔ ان کا ذہنی سفر، اس حدیث کے تعلق سے مسئلہ جنازہ سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader