اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
کے خلاف جہاد کریں گے۔ مگر آپ ہمیشہ انھیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروق نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: یا عُمَرُ إِنَّا قَلِيلٌ (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 441)۔ یعنی، اے عمر ہم تھوڑے ہیں۔ مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریباً دو سو آدمی اسلام میں داخل ہو گئے۔ ان لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہم کو ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجیے مگر ان سے بھی آپ نے یہی فرمایا کہ صبر کرو کیوں کہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی (اصْبِرُوا فَإِنِّي لَمْ أُؤْمَرْ بِالْقِتَالِ)۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے باوجود تقریباً 15 سال تک یکطرفہ طور پر صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے بعد پہلی بار آپ غزوہ بدر کے موقعہ پر اپنے اصحاب کو لے کر دشمنوں سے مقابلے کے لیے نکلے۔ یہ بھی آپ نے اس وقت کیا جب کہ اللہ تعالی کی طرف سے یہ کھلا وعدہ آ گیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مدد کے لیے آئیں گے (8:9)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جب بھی کوئی ظلم کرے تو فوراً اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے۔ آپ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عملی اقدام صرف اس وقت کیا جائے جب کہ اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی بن گیا ہو۔ مقام نزاع سے ہٹ جانا پیغمبر اسلام ﷺ نبوت کے بعد تقریباً 13 سال تک مکہ میں رہے۔ کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا مگر مکہ کی اکثریت آپ کی شدید مخالف بنی رہی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ صرف مخالفت آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں تو وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے قتل کے در پے ہو گئے۔ انھوں نے طے کیا کہ مکہ کے تمام سردار بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں۔ تا کہ آپ کی تحریک کا خاتمہ ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader