اجتہادی مسائل
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک نازک موقع تھا۔ بظاہر ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر ان سے مقابلہ کریں۔ مگر آپ نے اس معاملے کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھا چونکہ اس وقت کے حالات میں مسلح مقابلہ غیر مفید ہوتا اس لیے آپ نے اعراض کے اصول پر عمل فرمایا اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سنت نزاع سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ نزاع کے مقام سے ہٹ جانا ہے۔ اس طرح آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو بچا کر انھیں زیادہ مفید طور پر استعمال کر سکے۔ اغیار کی رعایت اسلام میں ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب کہا گیا ہے (9:60)۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دلوں کو جوڑنا، لوگوں کو اپنے سے مانوس کرنا۔ یہ مقصد صرف اس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے۔ دوسروں کے جذبات اور مفادات کا احترام کیا جائے۔ تالیف کا یہ اصول اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ ابدی طور پر ہر انسانی سماج میں مطلوب ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں تالیف قلب کے اس اصول پر عمل فرمایا۔ مثلاً جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت وہاں اہل ایمان کے ساتھ مشرکین اور یہودی بھی آباد تھے۔ اس وقت آپ نے اپنی طرف سے ایک منشور جاری فرمایا جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب اور کلچر کی آزادی ہوگی۔ ہر قبیلے کے نزاعی معاملات اس کی اپنی قبائلی روایات کے تحت طے کئے جائیں گے۔ عقیدہ اور کلچر کے معاملے میں کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader