Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے محمد کا لفظ استعمال نہ کرتے بلکہ وہ مذمم کا لفظ بول کر آپ کو برا بتاتے۔ حتیٰ کہ ابولہب کی بیوی ام جمیل نے خود آپ کے سامنے آ کر کہا: مُذَمَّمًا عَصَيْنَا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 356)۔ یعنی، یہ مذمم ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے۔ یہ بلا شبہ ایک اشتعال انگیزی تھی اور آپ کی توہین بھی۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ایک خوبصورت جواب دے کر اس کو نظر انداز کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مذمم کی سب وشتم کرتے ہیں۔ مگر ان کی سب وشتم میرے اوپر پڑنے والی نہیں کیوں کہ میرا نام محمد ہے نہ کہ مذمم۔ پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن ابی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ اس نے اگر چہ اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبے کے تحت وہ آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ آپ کی توہین کرنا، آپ کا سب وشتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ سب سے بڑا شاتم رسول تھا۔ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ آپ نے فرمایا: دَعْهُ، لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4905)۔ یعنی، اس کو چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس واقعہ سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ — توہین کو برداشت کر لو۔ کیونکہ اگر تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی برائی سامنے آئے گی، اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے۔ قبل از وقت اقدام نہیں پیغمبر اسلام ﷺ تقریباً 13 سال تک مکہ میں رہے یہاں کی اکثریت آپ کی مخالفت بنی رہی۔ انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا۔ تاہم آپ کے دعوتی جد و جہد کے نتیجے میں وہاں کے تقریباً دو سو مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہ لوگ بار بار آپ سے یہ کہتے کہ ہم ظلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page