Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

یہود کے ساتھ آپ نے خصوصی رعایت کا معاملہ فرمایا، رمضان کے روزہ کی فرضیت سے پہلے آپ بھی انھیں دنوں میں روزہ رکھتے رہے جب کہ یہود روزہ رکھتے تھے۔ تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے تقریباً سترہ مہینہ تک آپ نے یہود کے قبلہ (بیت المقدس) کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ یہود کے قبلۂ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا اس لیے تھا کہ آپ امید رکھتے تھے کہ اس طرح وہاں کے یہود آپ سے مانوس ہوں گے اور آپ کے قریب آجائیں گے (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 150)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ مخالفت کے جواب میں مخالفت نہ تھا۔ بلکہ مخالفت کے جواب میں رعایت تھا۔ آپ کی سوچ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو دبا کر انھیں اپنا تابع بنائیں۔ اس کے برعکس، آپ کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رعایت کا معاملہ کیا جائے، ان کے دل کو نرم کر کے انھیں اپنا ساتھی بنایا جائے۔ راز داری فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہو گئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی اہلیہ تھیں۔ وہ اس وقت ضروری تیاری کر رہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لیے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم_ واللہ ما أدري (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 14)۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ راز داری کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ مدینہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page