Urdu book · مسائلِ اجتہاد

اجتہادی مسائل

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سیدھا مکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لیے ہے۔ نازک اجتماعی معاملات میں راز داری بے حد اہم ہے اکثر اوقات کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے منصوبہ کا پیشگی علم نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام نے اس حکمت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار فرمایا۔ صورتِ موجودہ کو مان لینا جب بھی دو آدمیوں یا دو گروہوں میں نزاع پیدا ہو تو بالآخر دونوں کے درمیان ایک عملی حالت قائم ہو جاتی ہے۔ جس کو سٹیٹس کو (status quo) کہا جاتا ہے۔ اس سٹیٹس کو کو بدلنے کی کوشش اکثر حالات میں بے نتیجہ ہوتی ہے۔ کیونکہ فریق ثانی اپنی پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صورتِ موجودہ (status quo) بدستور باقی رہتی ہے۔ مزید نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس بے نتیجہ کوشش میں طرفین کے حاصل شدہ مواقع بھی بے فائدہ طور پر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے نزاعی معاملہ میں پیغمبر اسلام کی سنت یہ ہے کہ موجودہ حالت (status quo) کو مان لو۔ اس سٹیٹس کو ازم کا یہ عظیم فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ فرصت مل جاتی ہے کہ اپنی قوتوں کو مزید استحکام میں لگا دیں۔ مقام نزاع سے ہٹ کر اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ آخر کار طاقت کا توازن بدل جائے اور کسی بڑے ٹکراؤ کے بغیر معاملہ کا فیصلہ کیا جا سکے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر یہی حکمت اختیار فرمائی۔ آپ مدینہ سے روانہ ہو کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مکہ کے لوگ بھی چل کر وہاں آگئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page