علم بغیر معرفت
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لوگ خلافت صدیقی کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کو اپنے نظریے کے حق میں ایک قطعی دلیل بتاتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک صحابی البراء بن مالک خزرجی (وفات 20ھ) کا ہے۔ ان کا یہ واقعہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے زمانے میں پیش آیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانے میں مسیلمہ کذاب اور اس کے حامی اہل یمامہ کے ساتھ جنگ میں آئی۔ یہ جنگ حضرت خالد کی سرداری میں ہوئی تھی۔ اس جنگ کے آخری مرحلہ میں ایسا ہوا کہ باغیوں کی یہ جماعت ایک فصیل بند باغ کے اندر داخل ہو گئی اور اس کے مضبوط دروازہ کو اندر سے بند کر لیا۔ اس وقت صحابہ کی جماعت میں البراء بن مالک بھی تھے جو اپنی بہادری کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے صحابہ سے کہا کہ تم لوگ مجھ کو ایک ڈھال پر بٹھاؤ اور ڈھال کو نیزوں کے ذریعہ اوپر اٹھاؤ۔ اس طرح اٹھا کر مجھے دیوار کے اوپر تک پہنچا دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب وہ دیوار کے اوپر پہنچے تو وہ وہاں سے کود کر نیچے اتر گئے۔ اندر کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا مگر وہ مقابلہ کرتے ہوئے باغ کے دروازہ تک پہنچ گئے اور اس کو کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔ دروازہ کھلتے ہی صحابہ کی جماعت اندر داخل ہو گئی اور مسیلمہ کے ساتھیوں سے لڑ کر انہیں مغلوب کر لیا۔ البراء بن مالک کا یہ اقدام ایک جوکھم کا اقدام تھا۔ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ مگر البراء بن مالک کو باغی گروہ مارنے میں کامیاب نہ ہو سکا، وہ زندہ بچ کر باہر آگئے۔ اس واقعہ کے بعد وہ مزید آٹھ سال تک زندہ رہے اور پھر 20ھ میں ان کی طبعی وفات ہوئی ۔ (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد 2، صفحہ 364، البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 6، صفحہ 268، الاعلام للزرکلی، جلد 2، صفحہ 47)۔ ان دونوں میں شَتَّانَ مَا بَيْنَهُمَا ) there is a great difference between the two ) کا معاملہ ہے۔ البراء بن مالک نے جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader