Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر ایک اقدام کیا جس میں ان کے لیے بیک وقت دونوں امکان تھا۔ زندہ بچنے کا بھی اور مارے جانے کا بھی۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ میں اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر بم دھماکہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً جان بوجھ کر خودکشی کرنے کا معاملہ ہے۔ اس عمل کی تکمیل خود عامل کی موت پر منحصر ہے۔ ان دونوں کے درمیان واضح طور پر نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ مگر اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا اور واقعہ جو واضح طور پر خودکشی کا فعل تھا، اس کو شہادت کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ معرفت کے بغیر علم کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کے پاس علم (معنی معلومات) ہو، مگر اس کے پاس معرفت والی بصیرت نہ ہو تو وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہیں سمجھے گا۔ وہ ایسی بات کہے گا جو اس کے اپنے نزدیک علم پر مبنی ہوگی، حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف جہالت پر مبنی ہوگی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ معرفت کے لیے بھی علم ضروری ہے مگر صاحبِ معرفت آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ ظاہری علم سے گزر کر باطنی حقیقتوں کو دیکھے۔ وہ معلومات کا تجزیہ و تحلیل کر سکے۔ وہ سطور (line) کے ساتھ بین السطور(between the lines) کو پڑھے۔ وہ واقعات کو صحیح زاویہ نظر کے ساتھ دیکھ سکے۔ ایسا ہی آدمی صاحبِ معرفت ہے۔ اور جو آدمی صاحبِ معرفت ہو اس کے لیے علم نفع بخش بن سکتا ہے۔ معرفت کے بغیر علم ایک گمراہی ہے، بلکہ شاید سب سے بڑی گمراہی۔ زاویۂ نظر کا فرق پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے میں پیش آنے والی ایک جنگ وہ ہے جس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو ابتداءً جیت ہوئی تھی مگر اس کے بعد ان کی جیت شکست میں تبدیل ہوگئی۔ اس واقعہ پر قرآن میں اس طرح تبصرہ کیا گیا: اور اللہ نے تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page