Urdu book · مسائلِ اجتہاد

غلط سوچ کا نقصان

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

اس لیے ہندوستان جب آزاد ہو تو یہاں کے مسلم اکثریتی علاقہ میں ان کا علیحدہ مسلم لینڈ بنایا جائے ۔ یہ تجویز بعد کو پاکستان کے نام سے مسلمانوں میں مقبول ہوئی ۔ یہاں تک کہ 1947 میں برصغیر ہند سے الگ ایک مسلم علاقہ پاکستان کے نام سے وجود میں آ گیا ۔ علیحدہ مسلم خطہ کا یہ تصور دوسرے مسلم مفکرین نے بھی اختیار کر لیا۔ اور اس تصور پر مبنی بہت سی تحریکیں دنیا کے مختلف حصوں میں وجود میں آ گئیں ۔ ان تحریکوں کو ایک لفظ میں پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جا سکتا ہے ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جس ملک میں بھی کوئی ایسا سرحدی خطہ تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں پاکستانائزیشن کی یہ تحریک شدت کے ساتھ ابھر آئی ۔ ہر جگہ ایسے لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی پرجوش تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں علیحدگی پر مبنی جذباتی سیاست کو فروغ دیا۔ اس سلسلہ میں مثال کے طور پر برما، فلپائن، بوسینیا، چین، یوگو سلاویا، وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ یہ علاقائی مسلم لیڈر اپنے پاکستانائزیشن کے خیالی تصور میں دیوانگی کی حد تک پر جوش تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تفریقی سیاست کی تحریک کو پرامن طریقہ کار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو مسلح جدوجہد (armed struggle) کے دائرہ کی خونین حد تک پہنچا دیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ پر تشدد تحریکیں ہر جگہ ناکامی سے دوچار ہوئیں ۔ اس میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ اور کارنامہ انجام نہیں دیا ۔ پاکستانائزیشن کی یہ تباہ کن تحریک کیوں کر ساری مسلم دنیا میں مقبول ہو گئی ۔ اس کا سبب اس دور کے مسلم رہنماؤں کی ایک خلاف زمانہ سوچ ( anachronistic thinking) تھی۔ وہ زمانہ کی نئی تبدیلیوں کو سمجھ نہ سکے ۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ساری دنیا ایک ہو کر گلوبلائزیشن (Globalization) کے دور میں داخل ہو رہی تھی، عین اسی زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے زمانہ سے اپنی بے خبری کے نتیجہ میں پاکستانائزیشن کی صورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page