غلط سوچ کا نقصان
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
میں برعکس تحریکیں چلا دیں۔ یہ تحریکیں زمانی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی تھیں۔ اس لیے اس قسم کی تحریکوں کا وہی منفی انجام ہوا جو اول دن سے ان کے لیے مقدر تھا۔ جدید زمانی تبدیلیوں نے پچھلے ہر دور سے زیادہ باہمی اختلاط (interaction) کی اہمیت بڑھادی تھی۔ مگر مسلم لیڈر انتہائی نادانی کے ساتھ اس کے سراسر برعکس اپنی تحریکیں چلا رہے تھے۔ تاریخی تجربات آخری طور پر ثابت کر چکے تھے کہ ترقی کا لازمی ذریعہ چینج اور مسابقت (competition) ہے۔ مگر یہ مسلم لیڈر نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی دنیا بنانے میں مشغول تھے جہاں ان کے لیے نہ چینج ہو اور نہ مسابقت کا ماحول۔ جدید تبدیلیوں نے ترقی کے جو اعلیٰ مواقع کھولے تھے ان سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وسیع مشترک عمل سے ہی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مگر یہ مسلم لیڈر مسلمانوں کے لیے ایسا سیاسی جزیرہ بنانے کو اپنا کارنامہ سمجھ رہے تھے جہاں وہ مشترک کثیر بین الاقوامی تعاون سے محروم ہو گئے ہوں۔ جدید کمیونیکیشن نے جغرافیائی علیحدگی کے تصور کو سراسر غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔ مگر یہ مسلم لیڈر اس تبدیلی سے بے خبر ہو کر مضحکہ خیز حد تک بے فائدہ تحریکوں میں اپنا وقت اور مال ضائع کرتے رہے۔ زمانہ نے آزادی اور جمہوریت کی صورت میں ایک عظیم امکان کھولا تھا جو شخصی حکومت کے بجائے عمومی اشتراک طاقت (power sharing) کے اصول پر قائم تھا۔ مگر ان مسلم لیڈروں نے نہ اس امکان کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ جدید تبدیلیوں نے ایک نیا موافق امکان کھولا تھا جس کو اداراتی دور (age of institution) کہا جاسکتا ہے۔ قدیم شاہی زمانہ کے برعکس، اب حکومت صرف ایک منظمہ (administration) کے محدود سیاسی دائرہ میں سمٹ آئی تھی۔ اس کے سوا ہزاروں نئے شعبے ایسے پیدا ہو گئے تھے جن میں ادارے (institution) قائم کر کے حکومتی رتبہ سے بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader