Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑا مرتبہ حاصل کیا جا سکتا تھا، مثلاً تعلیم، اقتصادیات، میڈیا یا وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ مسلم لیڈر شعوری طور پر اس جدید امکان سے باخبر ہی نہ تھے پھر وہ اس کو استعمال کس طرح کرتے۔ مثالوں سے استدلال اکثر لوگ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے فرضی مثال دیا کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کا طریقہ ادب ہے، نہ کہ استدلال۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ تمثیل کا طریقہ استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے: Analogy is the weakest form of argument. مثلاً جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہر مذہب نجات کا ذریعہ ہے، ہر مذہب یکساں طور پر خدا تک پہنچانے والا ہے۔ اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے یہ تمثیل دی جاتی ہے کہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایک بلڈنگ ہو تو پہاڑ کے جس طرف سے بھی آدمی چڑھ کر اوپر جائے وہ آخر کار بلڈنگ تک پہنچ جائے گا۔ اسی طرح جس مذہبی طریقہ کی پیروی کی جائے وہ آخر کار آدمی کو ایک خدا تک پہنچا دے گا۔ علمی تجزیہ اس تمثیل کو بالکل غلط ثابت کرتا ہے۔ مثلاً کلکتہ جانے والا ایک مسافر دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر ہو تو وہ دیکھے گا کہ وہاں درجنوں گاڑیاں مختلف پٹریوں پر کھڑی ہوئی ہیں۔ اب اگر وہ ایسا کرے کہ وہ مذکورہ فارمولے پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی گاڑی پر بیٹھ جائے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ لازماً اس کو کلکتہ پہنچادے۔ تمثیلی استدلال کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ایک صورتحال میں بظاہر درست نظر آتا ہے، لیکن اگر صورتحال کو بدل دیا جائے تو اس کا سارا استدلال بے معنی ہو جائے گا۔ چنانچہ مذکورہ تمثیلی استدلال پہاڑ کی چوٹی کے معاملہ میں بظاہر درست نظر آتا ہے۔ مگر یہی تمثیلی استدلال ریلوے اسٹیشن کے معاملہ کی صورت میں غیر متعلق اور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page