چھوٹا شر
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹا شَر حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ، وَلَكِنَّ الْعَاقِلَ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْن (ذم الهوی لابن الجوزی ، صفحه 8 ) یعنی عقل مند وہ نہیں ہے جو یہ جانے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، بلکہ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا شر بہتر ہے۔ حضرت عمر فاروق کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس صرف دو فہرست ہو۔ ایک ان چیزوں کی فہرست جو خیر ہیں، اور دوسری ان چیزوں کی فہرست جو شر ہیں، ایسا آدمی عالم تو ہو سکتا ہے مگر وہ عاقل نہیں ہو سکتا۔ عاقل یا دانش مند ہونے کے لیے آدمی کو ایک اور چیز سے واقفیت ہونی چاہیے، اور وہ خیر الشرین ہے، یعنی دو شر میں سے بہتر شر۔ یہ جاننا کہ دو شر میں سے کون سا شر نسبتاً کم نقصان والا ہے یا چھوٹی برائی ( lesser evil) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً آپ کے گھر کے سامنے کچھ لوگ قابل اعتراض نعرے لگا رہے ہوں تو ایک شر ان کی یہ نعرہ بازی ہے۔ دوسرا امکانی شر یہ ہے کہ اگر آپ انہیں روکیں یا ان سے نزاع کریں تو وہ مزید مشتعل ہو کر فساد برپا کریں گے اور جان و مال کا نقصان پہنچائیں گے۔ اب عقلمند آدمی وہ ہے جو ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر یہ سمجھے کہ دونوں قسم کے شر میں سے کون سا شر بڑا ہے اور کون سا شر چھوٹا۔ اور پھر وہ چھوٹے شر کو برداشت کر لے تا کہ اس کو بڑا شر برداشت نہ کرنا پڑے۔ عام آدمی معاملات میں صرف دو چیزوں کو جانتا ہے ۔ خیر کے پہلو کو اور شر کے پہلو کو، مگر دانش مند آدمی وہ ہے جو شر کو دو قسموں میں تقسیم کر سکے، اور پھر دونوں میں سے جو شر مقابلتاً خیر یا با الفاظ دیگر ، کم ضر رساں ہو اس کو گوارا کر لے تا کہ وہ زیادہ بڑے شر سے بچ سکے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader