Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تحمل کی طاقت

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

تحمل کی طاقت ایک شہر کے دو آدمیوں میں ان بن تھی۔ ایک دن ایسا ہوا کہ دونوں کی ملاقات ایک سڑک پر ہوئی۔ مسٹر الف دیکھتے ہی مسٹر ب پر برس اٹھے۔ ان کے پاس جتنے سخت الفاظ تھے وہ سب انہوں نے مسٹر ب پر خرچ کر ڈالیے۔ مسٹر ب خاموش ہو کر ان کی بات سنتے رہے۔ مسٹر الف دیر تک بولنے کے بعد جب چپ ہوئے تو مسٹر ب نے کسی رد عمل کے بغیر بالکل نارمل انداز میں مسٹر الف سے کہا۔ میرا خیال ہے کہ آپ تھک گئے ہیں، آئیے ریسٹوران میں چل کر چائے پیئیں۔ اس کے بعد دونوں قریب کے چائے خانہ میں گئے۔ چائے پیتے پیتے مسٹر الف کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ آخر میں مسٹر الف نے مسٹر ب سے معافی مانگی اور یہ وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ جب کوئی شخص اشتعال انگیز بات کرے تو عام طور پر سننے والا غصہ ہو جاتا ہے۔ وہ جوابی اشتعال کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ آگ کو آگ کے ذریعہ بجھانے کے ہم معنی ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جائے ۔ غصہ کا جواب ضبط وتحمل کے ذریعہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تحمل صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، اس سے بڑھ کر تحمل ایک طاقتور تدبیر ہے۔ اشتعال کے جواب میں جب آپ غصہ ہو جائیں تو آپ اپنی سب سے بڑی صلاحیت ، یعنی عقل کو کھو دیتے ہیں۔ آپ اس قابل نہیں رہتے کہ آپ اپنی عقل کو استعمال کر کے گہرائی کے ساتھ معاملہ کو سمجھیں اور زیادہ کارگر انداز میں اپنا دفاع کریں۔ غضب ناک آدمی صرف منفی رد عمل کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ غصہ کے جواب میں مثبت عمل کا ثبوت دے سکے، اور مثبت عمل بلا شبہ منفی عمل کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ مؤثر اور کامیاب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page