Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما سیکولرزم کو آئیڈیل کے معیار پر جانچ کر اس کے دشمن بنے رہے۔ حالانکہ اگر وہ عملی (پریکٹیکل) بنیاد پر اس کو دیکھتے تو وہ اس کو خدا کی ایک نعمت سمجھتے اور ایک عظیم موقع کی حیثیت سے اس کو استعمال کرتے۔ اس معاملہ کا ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان ہے۔ سیکولرزم کو لادینی اور طاغوتی نظریہ قرار دے کر اس سے لڑنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ تھا۔ وہ فطرت کے نظام کے خلاف تھا۔ وہ پریکٹیکل بنیاد پر چلنے والی دنیا میں آئیڈیل بنیاد پر زندگی گزارنے کا غیر عملی پروگرام تھا۔ اس لیے وہ فطری طور پر ناکام ہو گیا۔ اب یہی لوگ عملاً ساری دنیا میں عین اسی سیکولر نظام کے تحت پرسکون زندگی گزار رہے ہیں جس کو انہوں نے اس سے پہلے غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا تھا اور اس کے تحت زندگی گزارنے کو نا جائز بتایا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس سیکولرزم کو وہ اصولی طور پر اختیار نہ کر سکے تھے اس کو انہوں نے منافقانہ طور پر اختیار کر لیا۔ دو عملی کی یہ روش بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔ مقصد کی حفاظت قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے : اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریقہ مقرر کیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ پس اس معاملہ میں تم سے نزاع نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو (22:67)۔ وہ تم سے نزاع نہ کریں، کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کو نزاع کا موقع نہ دو۔ فریق ثانی سے نزاع میں پڑنے کی قیمت یہ ہے کہ دعوت کا موضوع بدل جائے۔ اس کے برعکس، نزاع سے اعراض کا یہ فائدہ ہے کہ دعوت کا اصل نکتہ دونوں کے درمیان زیر بحث رہے۔ داعی کے مفاد میں یہ ہے کہ امر رب دونوں فریقوں کے درمیان مکالمہ (dialogue) کا موضوع ہو، نہ کہ امر غیر رب۔ باہمی مکالمہ کو اصل نکتہ سے ہٹنے نہ دینا داعی کے مفاد میں ہے، اس لیے داعی کو یہ قیمت دینا ہے کہ وہ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ اس موافق صورت حال کو برقرار رکھے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page