مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد الیاس صاحب (بانی تبلیغی جماعت) اپنی تحریک کے ابتدائی زمانے میں میوات گئے۔ ایک دیہاتی اپنے کھیت کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ مولانا نے اس سے کلمہ پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ دیہاتی اس قسم کی بات سے مانوس نہ تھا۔ وہ غصہ ہو گیا اور مولانا کو دھکیل دیا۔ مولانا زمین پر گرپڑے۔ اس کے بعد مولانا خاموشی کے ساتھ دوبارہ اٹھے اور کسی بھی شکایت کے بغیر انہوں نے دیہاتی سے کہا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا ہوں اور تم بھی اس کو دہرادؤ۔ مولانا محمد الیاس صاحب کی یہ مثال مذکورہ معاملہ کو اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ مولانا الیاس صاحب اگر مذکورہ دیہاتی کی غلط روش کی شکایت کرتے تو موضوع گفتگو بدل جاتا۔ انہوں نے اس کی اس روش کو یکسر نظر انداز کیا تا کہ دونوں کے درمیان صرف دین ہی موضوع بحث رہے، کوئی غیر متعلق چیز اس میں حائل نہ ہو سکے۔ اس طرح کے معاملے میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو اہمیت دینا اور اس کے خلاف شکایت و احتجاج کرنا۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی زیادتی کو نظر انداز کیا جائے اور اس کو صبر و اعراض کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ پہلی روش کا نقصان یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موضوع بحث بدل جاتا ہے۔ جب کہ دوسرے طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ موضوع بحث کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا۔ اصل قابل بحث نکتہ ہی دونوں کے درمیان بلا انقطاع بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔ معاملہ برابر ہو گیا دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور جاپان ایک دوسرے کے حریف تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو نقصان پہنچارہے تھے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ امریکہ نے 1945ء میں جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرادیے۔ اس کے نتیجہ میں جاپان کے دو صنعتی شہر تباہ ہوگئے۔ اس واقعے نے عام جاپانیوں کو سخت غصہ کر دیا، وہ امریکہ سے انتقام کی باتیں کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader