مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک بے حد نازک موقع تھا۔ جاپان اگر انتقام کے راستے پر چلتا تو وہ اس کے لیے صرف مزید تباہی کا سبب بنتا۔ مگر اس وقت جاپان کے رہنماؤں اور دانشوروں نے ایسی باتیں کیں جنہوں نے جاپانیوں کے ذہن کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ پر ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1945 میں اگر امریکہ نے ہمارے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا ہے تو ہم بھی اس سے پہلے 1941ء میں ان کے بحری مرکز پرل ہاربر کو تباہ کر چکے ہیں۔ اس طرح دونوں درمیان معاملہ برابر ہو گیا۔ اب تم اس کو بھلا دو اور جاپان کی نئی تعمیر میں لگ جاؤ۔ اس متوازن سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان چالیس سال کے اندر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ملک بن گیا۔ جب بھی دو فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ہر فریق کی سوچ یک طرفہ رخ پر چلنے لگتی ہے۔ ہر فریق یک طرفہ طور پر صرف دوسرے فریق کی زیادتیوں کو یاد رکھتا ہے اور اس کو بیان کرتا ہے۔ اس طرز فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی سوچ غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے حصہ کی زیادتی کو بھلا کر صرف دوسرے کے حصہ کی زیادتی کو یاد رکھتے ہیں۔ سوچنے کا یہ طریقہ ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے، افراد کے لیے بھی اور قوموں کے لیے بھی۔ اس غیر متوازن طرز فکر کو قرآن میں تططیف کہا گیا ہے اور اُس پر ویل کی خبر دی گئی ہے (المطففین، 6-1: 83)۔ نزاعی معاملات میں غیر متوازن طرز فکر ہمیشہ تباہی کا سبب بنتا ہے، اور متوازن طرز فکر ہمیشہ ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ سیاق و سباق کی اہمیت کسی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سیاق (context) کو سامنے رکھا جائے۔ اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر سیاق کو بدل دیا جائے تو سارا مفہوم ہی بدل جائے گا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ راقم الحروف کی کتاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader