سیاق و سباق کی اہمیت
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
تذکیر القرآن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے لکھا ہے: ”مولانا وحید الدین کے نظریات سے اختلاف الگ بات ہے۔ اور مولانا کے اس نظریہ کو کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں بے مسائل (بے حقوق) ہو کر رہیں گے تو انہیں اس ملک میں امن نصیب ہوگا، ورنہ نہیں ہوگا۔ اس نظریہ کو آنے والا مؤرخ پسپائی، ہزیمت اور بزدلی کے کون سے درجہ میں رکھے گا، یہ وہی جانیں ۔“ (علماء دیوبند کی تفسیری خدمات، مولانا اخلاق حسین قاسمی صفحہ 49)۔ اس تنقیدی ریمارک میں میری عبارت نقل نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ بطورِ خود کچھ الفاظ لکھ کر ان کو میرا نظریہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ اس اقتباس میں میرا جو نظریہ بتایا گیا ہے وہ میرا نظریہ ہی نہیں۔ میرا یہ کہنا ہے کہ مسلمان اس ملک میں داعی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان کے مقابلہ میں برادرانِ وطن کی حیثیت مدعو کی ہے۔ یعنی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جو رشتہ ہے وہ قومی حریف کا رشتہ نہیں ہے بلکہ وہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ دو قوموں کے درمیان اگر حریف اور رقیب کا رشتہ ہو تو اسی کے مطابق ان کے تعلقات قائم ہوں گے۔ ایسی حالت میں اگر ایک قوم دوسری قوم کے خلاف اپنے دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبے کی مہم چلائے تو وہ بالکل درست ہوگی۔ مثلاً پسماندہ طبقہ کی طرف سے اونچی ذات کے لوگوں کے خلاف یا محنت کش طبقہ کی طرف سے سرمایہ دار طبقہ کے خلاف حقوق طلبی کی مہم۔ ایسے کسی گروہ کے لیے اس قسم کی مہم چلانے کا معیار ان کے لیے صرف ملکی قانون اور ملکی دستور ہے اب جوں کہ ملکی قانون اور ملکی دستور اس قسم کی مہم کی اجازت دیتا ہے اس لیے وہ ان گروہوں کے لیے جائز مہم قرار پائے گی۔ مگر اہل اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اہل اسلام کے لیے صرف وہ مسلک درست ہے جو قرآن و سنت کے مطابق درست ہو اور وہ مسلک غلط ہے جو قرآن وسنت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader