مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
سے غلط قرار پائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن وسنت کے معیار کے مطابق، اہل اسلام کی حیثیت داعی کی ہے اور بقیہ قوموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ تعلق بے حد نازک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کی حیثیت دینے والے گروہ (giver group) کی ہے اور دوسری قوموں کی حیثیت لینے والے گروہ (taker group) کی ۔ داعی اور مدعو کے اس رشتہ کا تقاضا ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کے لیے احتجاج اور مطالبات کا طریقہ نہ اختیار کریں، کیوں کہ اس سے داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کی معتدل فضا باقی نہیں رہتی۔ اس نازک رشتہ کا تقاضا ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کو خود اپنی کوشش سے حل کریں۔ اس وضاحت سے اندازہ ہوتا ہے کہ راقم الحروف نے جو بات دعوت کے سیاق میں کہی تھی اس کو اس کے سیاق سے ہٹا کر دوسرے غیر متعلق سیاق سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح کلام کا اصل منشا ءبالکل بدل کر رہ گیا۔ حافظہ کا مسئلہ ایک صاحب ہیں جو اپنے ماضی کی بعض تلخ یادوں کی وجہ سے سخت پریشان رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو گئی ہے۔ ان کے سامنے میں نے ایک اردو شاعر کا ایک شعر پڑھا۔ وہ شعر یہ تھا: یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا انہوں نے اس شعر کو سنتے ہی کہا کہ بہت خوبصورت شعر ہے۔ ان کا تبصرہ سن کر میں نے کہا کہ میرے نزدیک تو یہ بہت بدصورت شعر ہے۔ پھر میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حافظہ ایک عظیم نعمت ہے۔ حافظہ ہی کی وجہ سے ہم چیزوں کو جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ اگر یہ دعا قبول ہو جائے اور آدمی کا حافظہ ختم ہو جائے تو وہ بظاہر ایک انسان ہوگا مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بھیڑ بکری سے بھی بدتر ہو جائے گا۔ میں کئی ایسے آدمیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader