Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

کو جانتا ہوں جن کا حافظہ بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا۔ ان کا حال یہ ہوا کہ وہ نہ کچھ بول سکتے تھے اور نہ کسی کو پہچانتے تھے۔ وہ بے بسی کی حالت میں چند سال اسی طرح زندہ رہے اور پھر مر گئے۔ اس معاملہ میں سوچنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حافظہ کو ختم کرنے کے بجائے حافظہ کی ناخوش گوار باتوں کو خوش گوار بنانے کی کوشش کرے۔ وہ ان کا تجزیہ کر کے انہیں اپنے لیے غیر مؤثر بنا دے۔ مثلاً ایک شخص کے اوپر کسی آدمی کا قرض ہے۔ وہ قرض نہیں دے پا رہا ہے اور اس بنا پر وہ غم میں گھل رہا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرض کو اپنا غم نہ بنائے وہ اپنے آپ کو اس سے بچائے کہ قرض کے مسئلہ کے ساتھ ایک اور مسئلہ اس کی زندگی میں شامل ہو جائے اور وہ ذہنی ٹینشن (mental tension) ہے۔ جب کہ ٹینشن کا مسئلہ بلاشبہ قرض کے مسئلہ سے زیادہ شدید ہے۔ قرض کا مسئلہ اگر صرف مسئلہ ہے تو ٹینشن ایک قسم کی ذہنی خودکشی۔ کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس نادانی سے بچائے کہ وہ ایک چھوٹے مسئلہ کو اپنے لیے زیادہ بڑا مسئلہ بنا لے۔ قناعت، ترقی اکثر خبریں آتی ہیں کہ فلاں بڑی کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن (bankruptcy) کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی طاقت سے زیادہ بڑی چھلانگ لگانا۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کمپنی کے پاس ذاتی سرمایہ صرف چند ملین ڈالرہے۔ مگر وہ ایک ایسے صنعتی کاروبار کا منصوبہ بناتی ہے جس کو قائم کرنے کے لیے کئی بلین ڈالر درکار ہیں۔ اب وہ بینک سے سودی قرض لیتی ہے۔ یہ قرض سود کے ساتھ قسطوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ اب اگر کمپنی کی آمدنی حسب اندازہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page