Urdu book · مسائلِ اجتہاد

مسائلِ اجتہاد

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری رہے تو قرض کی قسطیں بھی ادا ہوتی رہیں گی۔لیکن اگر کسی وجہ سے آمدنی میں خلل پڑ جائے تو کمپنی اس قابل نہ رہے گی کہ وہ قرض کی قسطوں کو ادا کر سکے۔ اسی توازن کے ٹوٹنے کا نام دیوالیہ پن ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر مادہ پرست انسان کو کسی نہ کسی صورت میں پیش آتا ہے۔ یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ایک نہایت گہرا سبب ہے۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر زیادہ کی طلب رکھتا ہے۔ اپنی طلب میں کسی حد پر رکنا انسانی مزاج کے خلاف ہے۔ یہی وہ فطری مزاج ہے جو مذکورہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ مادی طرز فکر میں اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ جو آدمی مادی کامیابی کی اصطلاحوں میں سوچتا ہو وہ کبھی اس کی کمزوری سے بچ نہیں سکتا۔ اس سے یہ کہنا کہ تم ایک مادی حد پر رک جاؤ، اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ قابل عمل بھی نہیں۔ اس معاملہ میں قابل عمل فارمولہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آخرت پسندانہ سوچ۔ آخرت پسندی کے مطابق، اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بقدر ضرورت پر راضی ہو جائے اور آخرت میں بقدر شوق کا طلب گار ہو۔ یعنی دنیا میں ضرورت کو کافی سمجھنا، اور زیادہ کی طلب کا رخ آخرت کی طرف کر دینا۔ مختصر الفاظ میں، اس کا فارمولا یہ ہے۔ دنیا میں محدود پر راضی ہونا اور لامحدود کو آخرت میں چاہنا۔ یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ جب بھی دو آدمیوں یا گروہوں کے درمیان کوئی نزاع پیدا ہو تو ہر فریق کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے فریق سے اپنی بات منوائے، وہ دوسرے فریق سے اپنے مزعومہ حق کو وصول کرے۔ مگر یہ طریقہ سراسر غیر فطری ہے۔ اس طریقہ کا واحد انجام یہ ہے کہ وقتی مسئلہ ایک لامتناہی مسئلہ بن جائے۔ مزید یہ کہ اصل مسئلہ تو ختم نہ ہو اور نئے مسئلے پیدا ہو کر معاملہ کو پیچیدہ تر بنا دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page