یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
نزاعی مسئلہ کا کامیاب حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یک طرفہ مفاہمت ( unilateral adjustment) ہے ۔ دونوں میں سے جو فریق پہلے یک طرفہ مفاہمت پر راضی ہوجائے وہی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ اور جو فریق راضی نہ ہو اس کو ہمیشہ یہ قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ معاملہ کے اس خاتمہ پر ذلت کے ساتھ راضی ہو جس پر ابتدائی مرحلہ میں عزت کے ساتھ سمجھوتہ ہوسکتا تھا مگر اس وقت اس نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ قرآن میں اس اصول کو دو لفظ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128) یعنی ، صلح بہتر ہے: Reconciliation is the best. قرآن میں یہ آیت ازدواجی نزاع کے ذیل میں آئی ہے۔ مگر یہ ایک عمومی اصول ہے، اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ صلح (reconciliation) کا الٹا لفظ جنگ ہے۔ جنگ کی نفسیات یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے کو زیر کرکے اپنا حق وصول کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس ، صلح کا طریقہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں ہر فریق یہ کوشش کرتا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے اور پرامن بات چیت کے ذریعہ دوطرفہ رضامندی سے مسئلہ حل ہوجائے ۔ جنگ کے طریقہ میں ہر فریق کی نظر موجود پر ہوتی ہے۔ یعنی جو چیز سامنے موجود ہے اس پر قبضہ کرنا۔ جولوگ جنگ کی نفسیات کا شکار ہوں وہ موجود پر قبضہ کو جیت اور موجود کے کھونے کو ہار سمجھتے ہیں۔ مگر صلح کی نفسیات والا انسان حال کے بجائے مستقبل کو دیکھتا ہے۔ اس کی بصیرت اس کو بتاتی ہے کہ جو کچھ بروقت سامنے نظر آتا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جواگر چہ بروقت نظر نہیں آتا مگر دانشمندانہ عمل کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader