مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ پسند آدمی کی نظر حال میں اٹکی ہوئی ہوتی ہے اور صلح پسند آدمی کی نظر مستقبل کی طرف متوجہ رہتی ہے۔ یہی مستقبل بینی تمام بڑی بڑی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔ مشکل میں آسانی قرآن کی سورہ نمبر 94 میں فطرت کے ایک عالمگیر اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا 1 اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:5-6)۔ یعنی، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ With every hardship there is ease, With every hardship there is ease. اس قرآنی آیت میں ایک ایسی سوچ کی تعلیم دی گئی ہے، جس کو برتر انداز فکر (high thinking) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی مشکلات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔ اس کا مقصد آدمی کے اندر ایک ایسے طرز فکر کو پیدا کرنا ہے جو دشواریوں میں گھر کر نہ رہ جائے بلکہ دشواریوں سے باہر آ کر سوچے ۔ جو آدمی اس برتر سوچ کا ثبوت دے وہ بہت جلد دریافت کرے گا کہ جہاں بظاہر صرف مسائل دکھائی دے رہے تھے وہاں ایسے مواقع بھی موجود تھے جنسے نہ صرف مسائل کو حل کیا جائے بلکہ اپنی ناکامی کو دوبارہ کامیابی میں بدل لیا جائے۔ اس معاملہ کی بہت سی مثالیں ماضی اور حال میں موجود ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں وسط ایشیا کے وحشی قبائل جن کو منگول کہا جاتا ہے، اپنی کوہستانی بستیوں سے نکلے اور عباسی سلطنت کو ختم کر کے سمرقند سے حلب تک تمام مسلم شہروں میں چھا گئے۔ اس واقعہ کو مؤرخ ابن اثیر نے ایک ایسی آفت بتایا ہے جو تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی اور نہ شاید دوبارہ پیش آئے۔ گویا اپنے ظاہر کے اعتبار سے یہ ایک عظیم عسر (بہت بڑی مشکل) کا معاملہ تھا۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader