مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مشکل میں ایک آسان پہلو نکل آیا۔ وہ یہ کہ اس فوجی در اندازی کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعوعائی کی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ روزانہ مختلف صورتوں میں دای اور مدعو کے درمیان اختلاط (enter action) اور بحث و گفتگو (dialogue) ہونے لگا۔ یہ جنگ ابتداء میں قتل و خون دکھائی دیتی تھی مگر بعد کے مرحلہ میں وہ اسلام کو موضوع بحث بنانے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ اس طرح ایک فطری نتیجے کے طور پر مسلمانوں کی طرف سے منگولوں کے اوپر اسلامی دعوت کا عمل (process) جاری ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال کے اندر منگولوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ منگولوں کے ساتھ جنگ میں بظاہر مسلمان ہارے تھے مگر عین اسی وقت اسلام نے شاندار کامیابی حاصل کرلی۔ اسی تاریخی حقیقت کو ایک مغربی مورخ نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے۔ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں کامیابی حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے۔ The religion of Muslim have conquered where their arms had failed. تعمیم کی غلطی سوچ کی غلطی کی ایک صورت وہ ہے جس کو تعمیم (generalization) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک استثنائی مثال کو لے کر اس کو عمومی شکل دینا اور اس سے کلی رائے بنانا۔ تعمیم کی غلطی اتنی زیادہ عام ہے کہ بہت کم لوگ اس سے بچتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مثلاً بائبل (نیا عہد نامہ) میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا کہ: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں ۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانیے آیا ہوں۔ "Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword." (Matthew, 10:29)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader