Urdu book · مسائلِ اجتہاد

تعمیم کی غلطی

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت مسیح کا قول ان کے پورے کلام میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے زیادہ تر اقوال محبت اور اخلاق جیسی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ ایسی حالت میں مذکورہ قول کو لے کر یہ کہنا حضرت مسیح کا مشن تلوار چلوانا تھا، ایک استثنا کو عموم کا درجہ دینا ہوگا۔ یہ ایک غلط تعمیم ہوگی جو علمی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔ اسی قسم کی غلط تعمیم قرآن کے بارے میں بھی کی گئی ہے۔ قرآن سے قتال کی بعض آیتوں کو لے کر کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن جنگ وقتال کی کتاب ہے۔ حالانکہ یہ ایک کھلی ہوئی غلط تعمیم ہے۔ قرآن کی ننانوے فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جو امن اور انسانیت جیسے مثبت موضوعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک فیصد سے بھی کم آیتیں وہ ہیں جو کھلی ہوئی جارحیت کی صورت میں دفاع کے احکام بتاتی ہیں۔ ایسی حالت میں چند آیتوں کو لے کر یہ کہنا کہ یہی قرآن کی عمومی تعلیم ہے، سراسر غلط ہے اور علمی اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔ تعمیم کی یہ فکری برائی ہمارے معاشرہ میں پھیلتی جارہی ہے۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ جس آدمی سے وہ خوش ہوں گے اس کی کچھ خوبیوں کو لے کر اس کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کریں گے۔ وہ انہی چند خوبیوں کی بنیاد پر اپنے محبوب کی مکمل تصویر بنائیں گے۔ اس کے برعکس، جس آدمی سے وہ ناخوش ہوں اس کی خوبیوں کو وہ نظرانداز کریں گے۔ وہ ڈھونڈ کر اس کی کچھ برائیاں نکالیں گے اور ان برائیوں کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کر کے یہ تاثر دیں گے کہ یہی ان کے مبغوض آدمی کی مکمل تصویر ہے۔ تعمیم کی یہ دونوں ہی صورتیں سراسر غلط ہیں۔ یہ طریقہ غیر علمی بھی ہے اور اخلاق اور انصاف کے خلاف بھی۔ جس معاشرہ میں تعمیم کا یہ طریقہ رائج ہو جائے وہاں ہر آدمی کی تصویر مصنوعی بن جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں ایسی رائے ئیں قائم کریں گے جن کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page