مسائلِ اجتہاد
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
راقم الحروف کو بھی اپنے دعوتی مشن میں اس قسم کی غلط تعمیم کا تجربہ ہوا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ میرے بارے میں یہ مشہور کرتے ہیں کہ ان کو تو بس ایک بات اسلام میں ملی ہے، صلح حدیبیہ۔ حالانکہ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ میری دوسو سے زیادہ کتابیں ہیں اور ہزاروں سے زیادہ مقالات ومضامین چھپ چکے ہیں۔ کوئی شخص ان میں دیکھ سکتا ہے کہ میری ان تحریروں میں صلح حدیبیہ کی بات ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اسلام کی دوسری تعلیمات اور وقت کے مسائل کا اسلامی جواب جیسے مضامین سے میری تحریریں بھری ہوئی ہیں۔ مگر خود ساختہ تعمیم کے ذریعہ یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ مجھے تو سارے قرآن وحدیث میں صرف ایک چیز ملی، صلح۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں ان کا معاملہ بلا شبہ غیر علمی بھی ہے اور دیانت کے خلاف بھی۔ سبق لینا، نہ کہ سبق سکھانا 1947 سے 1971 تک بنگلہ دیش کا نام مشرقی پاکستان تھا۔ اس وقت وہ پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کردی۔ اس جنگ میں انڈیا نے بنگلہ دیشیوں کا ساتھ دیا۔ اس طرح انڈیا کی فوجی مدد کے ذریعہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش کے نام سے مستقل ملک بن گیا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان کے لیڈروں نے کہا کہ ہم انڈیا سے انتقام لیں گے۔ وہ انڈیا پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر اور پنجاب میں اپنی خفیہ مدد کے ذریعہ پراکسی وار چھیڑ دی ۔ یہ پراکسی وار صرف پاکستان کی مزید تباہی کا ذریعہ بنی۔ اس معاملہ میں پاکستان کے لیے سبق سکھانے کی پالیسی درست نہ تھی۔ اس کے لیے زیادہ صحیح پالیسی سبق لینے کی تھی۔ پاکستان کو 1971 کے واقعہ سے یہ سبق لینا چاہیے تھا کہ بنگلہ دیش کا نام مشرقی پاکستان رکھ کر اس کو ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان کا حصہ قرار دینا ایک غیر حقیقت پسندانہ سیاست تھی جو عملاً چلنے والی نہ تھی۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader